نتائج تلاش

  1. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی گذرنے والوں میں کتنے جگر فگار تھے آج

    گذرنے والوں میں کتنے جگر فگار تھے آج فقیر ِ راہ ہیں ہم ، ہم کو کیا نہیں معلوم صبا چلی تو ہے اس بار جھولیاں بھر کے کسی کو راس بھی آئے گی یا نہیں معلوم ہمیں بھی راہ میں اک دن تمھارا خانہ بدوش نظر تو آیا تھا لیکن پتہ نہیں معلوم بہت سے وہ ہیں جو بارِ سفر اٹھا نہ سکے بہت سے ہیں وہ...
  2. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی ننگ و نام

    ننگ و نام صُبح تک آتی ہے سینے سے کِسی کی آواز ہائے ، یہ سِلسلہ ء شامِ غریباں زیدی تُو مرے واسطے کُیوں مَورِدِ الزام ہُوا تُونے کُیوں ترک کیا رشتہ ء یاراں، زیدی اب نہ وُہ کوچہ و بازار میں آنا جانا اب نہ وہ صحبت ِ احباب و ادیباں ، زیدی اب ترے غم پہ زمانے کو ہنسی آتی ہے پُھول جلتا ہے ،...
  3. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی شہناز (۵)

    شہناز (۵) جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کے ایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر جس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی تُونے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا ساز میں بھی نہ تھی وہ بات ، صبا میں بھی نہ تھی اور اب یوں ہے کہ جیسے کبھی رسم ِ...
  4. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی سفرِ آخرِ شب

    پسند فرمانے کا شکریہ عبد الرحمن صاحب جی اس میں دو جگہ غلطی ہے ، درست کر کے پوسٹ کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفرِ آخرِ شب بہت قریب سے آئی ہوئے دامنِ گُل کِسی کے رُوئے بہاریں نے حال ِ دل پُوچھا کہ اَے فراق کی راتیں گُزارنے والو خُمارِ آخرِ شب کا مزاج کیسا تھا تمھارے ساتھ رہے...
  5. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی محبت

    محبّت تُو مِری شمعِ دِل و دِیدہ ، مِری معصُومہ پیار کی دُھوپ میں نِکلی تو پِگھل جائے گی کَھولتا ، گُونجتا لاوا ہے مِرے جسم کا لمس تُو مِرے ہونٹوں کو چُھو لے گی تو جل جائے گی تِتلِیاں چُن ابھی خاروں کی طلبگار نہ بن لوریاں سِیکھ مِرے درد میں غم خوار نہ بن بزم ِ آہنگ میں آ ، نالہ ء خُونبار...
  6. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی سفرِ آخرِ شب

    سفرِ آخرِ شب بہت قریب سے آئی ہوئے دامنِ گُل کِسی کے رُوئے بہاریں نے حال ِ دل پُوچھا کہ اَے فراق کی راتیں گُزارنے والو خُمارِ آخرِ شب کا مزاج کیسا تھا تمھارے ساتھ رہے کون کون سے تارے سیاہ رات میں کِس کِس نے تم کو چُھوڑ دیا بِچھڑ گئے کہ دغا گئے شریکِ سفر اُلجھ گیا کہ وفا کا طِلسم...
  7. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی نذر غالب

    نذر غالب اس کشمکشِ ذہن کا حاصِل نہیں کچھ بھی انکارار کو ٹھکرائے ، نہ اقرار کو چاہے مفرور طلب رات کو حاصل کرے بن باس مغرور بدن گرمیء بازار کو چاہے سنبھلے نہ زخمِ زیست سے بوجھ آب و ہوا کا آسائش ِ دُنیا در و دیوار کو چاہے آنکھیں روشِ دوست پہ بچھتی چلی جائیں اور دوست کہ طبعِ سَر خوددار کو...
  8. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی منزلیں ، فاصلے

    منزلیں ، فاصلے حافظے کی مدد سے چلو ، ساتھیو دور تک کہر ہی کہرہے ، راستے راہ گیروں کے قدموں سے لپٹے ہوئے اونگھتی سرحدوں کی طرف کھو گئے ایک بےنام خطرے سے سہمے ہوئے رنگ و رَم لے لپکتے قدم تھم گئے اور دریچوں سے بڑھتی ہوئی روشنی برف و باراں کی یلغار میں کھو گئی وقت عفریت کی رہ گزر بن گیَا...
  9. غزل قاضی

    منزل (۲)

    اہلِ منزل کی مُسافِر پہ یہ تِرچھی نظریں میزباں کی سُوئے مہماں یہ نگاہ ِ اکراہ اَلحذَر خون بہاتے ہُوئے آدابِ کَرَخت الاَماں تِیر چلاتے ہُوئے اخلاق ِ سیاہ یہ خَط و خال سے چَھنتی ہُوئی نفرت کی شُعاع یہ جَبینوں کی لکیروں سے اُبَلتی ہُوئی ڈاہ شہر کے زَلزلہ بردوش ، گلی کُوچوں میں یہ کڑکتے...
  10. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی جسم کی بےسود پکار

    جسم کی بےسود پکار آج تو مڑ کے بھی اس نے نہیں دیکھا ساتھی ورنہ اس راہ پہ ، ذرات ہیں پامال جہاں اس کی آنکھوں میں تھی انجان ستاروں کی تلاش کھیلتے ، گھومتے ، گمگارتے دھاروں کی تلاش جھومتے ، ڈولتے ، خاموش اِشاروں کی تلاش آج آنکھوں میں تڑپ تھی نہ اِشارہ ساتھی یہ نہیں ہے کہ اسے شوقِ خود آرائی...
  11. غزل قاضی

    فاصلہ

    فاصلہ (۱) رات آئی تو چراغوں نے لویں اُکسا دیں نیند ٹوٹی تو ستاروں نے لہو نذرکیا کسی گوزے سے دبے پاؤں چلی بادِ شمال کیا عجب اُس کے تبسُّم کی ملاحت مِل جائے خواب لہرائے کہ افسانہ سے افسانہ بنے ایک کونپل ہی چٹک جائے تو پھر جام چلے دیر سے صُبحِ بہاراں ہَے نہ شامِ فردوس وقت کو فکر ، کہ وُہ...
  12. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی کبھی جِھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے

    کبھی جِھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے ہم گئی رات پہ دل کو لیے بہلاتے رہے اپنے اخلاق کی شہرت نے عجب دن دکھلائے وہ بھی آتے رہے ، احباب بھی ساتھ آتے رہے ہم نے تو لُٹ کے محّبت کی روایت رکھ لی اُن سے تو پوچھیے وُہ کس لیے پچھتاتے رہے اُس کے تو نام سے وابستہ ہے کلیوں کا گداز آنُسوؤ تم سے...
  13. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی اب تک ہمارے ساتھ رفیقانِ جستجو

    اب تک ہمارے ساتھ رفیقانِ جستجو کچھ موت ، کچھ حیات کے ہمراہ آئے تھے ہم ایسے بد نصیب کہ میخانہ دیکھنے یاروں کے التفات کے ہمراہ آئے تھے یوں ہم کہاں ، شراب کہاں لیکن ایک شام کچھ یار دوست ساتھ تھے کچھ ہم اداس تھے اس کی نظر کے فیض سے غم اور بڑھ گیا پہلے بھی تھے اداس مگر کم اداس تھے ( مصطفیٰ...
  14. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی ہُوئی ایجاد نئی طرزِ خوشامد کہ نہیں

    غزل ہُوئی ایجاد نئی طرزِ خوشامد کہ نہیں کل کا آئین ہے اب تک سرِ مسند کہ نہیں آگئی اے مِرے سائے سے بھی بچنے والی رفتہ رفتہ ترے اقرار کی سرحد کہ نہیں نہر خوں ہو چکی ، فرہاد کی مزدوری کو اب کے تیشے سے ملی قیمتِ ساعد کہ نہیں ناصحا اس لئے میں گوش بر آواز نہ تھا تری آواز سے چھوٹا ہے ترا قد...
  15. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی

    انتخاب کی پسندیدگی کیلئے بےحد شکریہ ! عبد الرحمن صاحب ، محمداحمد صاحب ۔
  16. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی

    ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی اُس مرحلے پہ آئی کہ اِلہام ہو گئی دُنیا کی بےاُصول عداوت تو دیکھئے ہم بُوالہوس بنے تو وفا عام ہو گئی کل رات، اُس کے اَور مِرے ہونٹوں میں تیرا عکس اَیسے پڑا کہ رات تِرے نام ہو گئی (مصطفیٰ زیدی از قبائے سَاز )
  17. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی اپسراؤں کا گیت

    اپسراؤں کا گیت ( ایک ریویو ) (۱) آج کی رات بھی کٹ گئی جھومتی مسکراتی ہوئی اب کی برسات بھی کَٹ گئی زخم دھونے کی فرصت ملے کاش وہ فصل بھی آسکے جس میں رونے کی فرصت ملے (۲) ہم نے جو کچھ کہا، ہو گیا وقت قدموں سے لپٹا رہا فاصلہ راہ میں سو گَیا رنگ و رَم سے بھی الجھے کوئی کوئی پتھر ،...
  18. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

    تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح پُھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح اَے مُجھے چھوڑ کے طُوفان میں، جانیوالی دوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح اَے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی میں ترا راز چُھپاتا ہوں دفینے کی طرح...
  19. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی منزل منزل

    منزل منزل آج کیوں میرے شب و روز ہیں محرُوم ِ گُداز اَے مِری رُوح کے نغمے مِرے دِل کی آواز اِک نہ اِک غم ہے نشاطِ سحروشام کے ساتھ اَور اِس غم کا مفہُوم نہ مقصد نہ نہ جَواز مَیں تو اِقبال کی چوکھٹ سے بھی مایُوس آیا میرے اَشکوں کا مداوا نہ بدخشاں نہ حِجاز چند لمحوں سے تمنّا کہ دوامی بن جائیں ایک...
  20. غزل قاضی

    مصطفیٰ زیدی شطرنج

    عزیز دوست مرے ذہن کے اندھیرے میں ترے خیال کے دیپک بھٹک رہے ہیں ابھی کہاں سے ہو کے کہاں تک حیات آ پہنچی اداس پلکوں پہ تارے چھلک رہے ہیں ابھی ترے جمال کو احساسِ درد ہو کہ نہ ہو بجھے پڑے ہیں ترانے ستار زخمی ہیں حیات سوگ میں ہے بےزبان دل کیطرح کہ نوجوان امنگوں کے ھَار زخمی ہیں مرے رفیق...
Top