نتائج تلاش

  1. احسان الٰہی احسان

    کسی پر جوش جذبے تک ہمیں خاموش رہنا ہے

    کسی پر جوش جذبے تک ہمیں خاموش رہنا ہے کھلی بارش کے جھرنے تک ہمیں خاموش رہنا ہے نہ باہر کی خبر ہم کو نہ اندر کا پتہ ہم کو نجانے کتنے عرصے تک ہمیں خاموش رہنا ہے عدم دلچسپیاں ہی تو وفا کی موت ہوتی ہیں ہمیں لگتا ہے پُرسے تک ہمیں خاموش رہنا ہے ترے لفظوں کی مکاری چھپا دیتی ہے سچائی کسی پُر زور...
  2. احسان الٰہی احسان

    لو! اپنی خواہشوں کو آخر دبا دیا ہے

    لو! اپنی خواہشوں کو آخر دبا دیا ہے سوچوں پہ اپنی ہم نے پہرہ لگا دیا ہے سب خواب اپنے ہم نے کونے میں رکھ دیئے ہیں جتنے خیال آئے سب کو مٹا دیا ہے تاکہ یہ دنیا سمجھے خوش باش رہ رہے ہیں زخموں کو اپنے ہم نے دیکھو چھپا دیا ہے دردوں کو کہہ دیا ہے چپ چاپ بیٹھ جائیں آنکھوں کے پانیوں کو صحرا بنا دیا...
  3. احسان الٰہی احسان

    لو! اپنی خواہشوں کو آخر دبا دیا ہے

    لو! اپنی خواہشوں کو آخر دبا دیا ہے سوچوں پہ اپنی ہم نے پہرہ لگا دیا ہے سب خواب اپنے ہم نے کونے میں رکھ دیئے ہیں جتنے خیال آئے سب کو مٹا دیا ہے تاکہ یہ دنیا سمجھے خوش باش رہ رہے ہیں زخموں کو اپنے ہم نے دیکھو چھپا دیا ہے دردوں کو کہہ دیا ہے چپ چاپ بیٹھ جائیں آنکھوں کے پانیوں کو صحرا بنا دیا...
  4. احسان الٰہی احسان

    ہم پسِ زندانِ تنہائی رہے تو کیا ہوا

    شکریہ جی، حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
  5. احسان الٰہی احسان

    ہم پسِ زندانِ تنہائی رہے تو کیا ہوا

    ہم پسِ زندانِ تنہائی رہے تو کیا ہوا اَن گنت ویرانے دل میں آ بسے تو کیا ہوا خارزارِ زندگی میں ہم کو چلنا ہے ضرور پھٹ پڑے ہیں پاؤں کے یہ آبلے تو کیا ہوا اس نے ہی دی ہیں ہمیں انساں کی ساری رفعتیں عظمتِ انساں کے قدموں میں گرے تو کیا ہوا ہم فقیروں سے ہیں قائم اسکی ساری رونقیں ہم اگر کوچے میں تیرے...
  6. احسان الٰہی احسان

    آؤ اتنی مجال کر دیکھیں

    آؤ اتنی مجال کر دیکھیں سب اکٹھے وبال کر دیکھیں کر رکھی تھیں جو ان سے وابستہ وہ امیدیں بحال کر دیکھیں بکھرے انداز اپنے جینے کے کچھ نہ کچھ تو سنبھال کر دیکھیں اژدہے جو گھسے ہیں سوچوں میں ان کو باہر نکال کر دیکھیں انکی مرضی جواب جو بھی دیں ہم تو اپنا سوال کر دیکھیں ہار ہے یا کہ جیت ہے اپنی آؤ...
  7. احسان الٰہی احسان

    خلعتِ رسوائی لے کر جا بجا پھرتا رہا

    خلعتِ رسوائی لے کر جا بجا پھرتا رہا میرے قدموں میں ہوا کا راستہ پھرتا رہا کونسا چہرہ تھا میرا اور کیا کچھ نقش تھے میری صورت ڈھونڈنے کو آئنہ پھرتا رہا عمر بھر میرے تعاقب میں رہی ہیں تہمتیں اور میرے سامنے سب اَن کہا پھرتا رہا ہم تری کوئی ملامت سے گزر پائے نہ تھے پر ہماری کھوج میں ہر قافلہ...
  8. احسان الٰہی احسان

    ہر اک دیوارو در اچھا لگے ہے

    ہر اک دیوارو در اچھا لگے ہے محمد (ص) کا نگر اچھا لگے ہے ہر اک دنیا کے درباروں سے بڑھ کر مجھے آقا (ص) کا گھر اچھا لگے ہے مری ہے آپ (ص) سے آقا جو نسبت اسی سے ہر بشر اچھا لگے ہے مدینے کی طرف بڑھتے قدم ہوں تو ہر مشکل سفر اچھا لگے ہے مجھے آقا (ص) کی جو باتیں بتائے تو ایسا ہر بشر اچھا لگے ہے...
  9. احسان الٰہی احسان

    یہ دنیا کم ہی کبھی شادمان ہوتی ہے

    یہ دنیا کم ہی کبھی شادمان ہوتی ہے مگر جو ہو تو بڑی مہربان ہوتی ہے تمہارا پہلو مجھے جب نصیب ہوتا ہے زمیں زمین نہیں، آسمان ہوتی ہے میں زرد لمحوں میں جب بھی جھلسنے لگتا ہوں تمہاری یاد مرا سائبان ہوتی ہے جہاں پہ کوئی نگہ داریاں نہیں رہتیں خدا کی ذات وہاں پاسبان ہوتی ہے اجڑنے لگتے ہیں جب...
  10. احسان الٰہی احسان

    کچھ حال اپنے سے عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

    کچھ حال اپنے سے عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں سوچو تو اتنا بے اماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں کچھ حال اپنے سے عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں سوچو تو اتنا بے اماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں کچھ کام آ جاتے ہیں ہم لوگوں کے کاروبار میں عمرِ رواں میں رائگاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں نسبت تو ہم کو تھی...
  11. احسان الٰہی احسان

    اس زندگی کے رنگِ تماشا کی بات ہو

    اس زندگی کے رنگِ تماشا کی بات ہو کچھ درد اور درد شناسا کی بات ہو لمبے سفر میں جسکی لکیریں بھی مٹ گئیں اس بے مراد و خستہ کفِ پا کی بات ہو شورو شغب میں بھول گئے جس کا ذکر بھی اس پُر ہجوم زیست میں، تنہا کی بات ہو جو ابتدا سے اپنے مقدر میں تھا لکھا اس بے کنارو بے سکوں صحرا کی بات ہو یوسف تو...
  12. احسان الٰہی احسان

    ترے کوچے میں جاکے دیکھتے ہیں

    ترے کوچے میں جا کے دیکھتے ہیں مقدر آزما کے دیکھتے ہیں پڑی ہیں جتنی بھی ماضی میں یادیں وہ سب واپس بلا کے دیکھتے ہیں تمہاری اور میری روح کا پھر سے وہ دستر خواں لگا کے دیکھتے ہیں تری آنکھوں کے آنگن میں ہے کیا کیا ذرا نظریں جما کے دیکھتے ہیں بچھے ہیں راستے میں جو بھی کانٹے چلو ان کو ہٹا کے...
  13. احسان الٰہی احسان

    احساس کا کاندھا تو کبھی جھٹکا نہیں ہے

    احساس کا کاندھا تو کبھی جھٹکا نہیں ہے خود میں بھی اتر کر تو ابھی دیکھا نہیں ہے اس شخص کو گہرائی کا کیا ہوگا تصور جو ذات میں اپنی بھی کبھی ڈوبا نہٰیں ہے خوابوں کی بھی ہے ایک الگ اپنی حقیقت خوابوں کو مگر ہم نے تو اوڑھا ہی نہیں ہے اک خوفِ مسلسل نے ہمیں مار دیا ہے اک شک ہے جو یقیں میں ابھی بدلا نہیں...
  14. احسان الٰہی احسان

    سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر

    سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر تم بھی آ جاؤ ذرا کنجِ غزل سے باہر زندگی بکھری ہے پیچیدہ گزرگاہوں میں اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نسبت اب بھی اور سسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر اپنی حسرت کی منادی نہ کرو لوگوں میں اب جہانگیر بھی ہے شیش محل سے باہر تا ابد...
  15. احسان الٰہی احسان

    کنجِ غزل میں ہم نے جہاں کو بسا دیا

    جی۔ 'پر میں خواہش ہے اور 'کو' میں مجبوری۔ شکریہ
Top