نتائج تلاش

  1. محمد وارث

    سنجیدہ شاعری کو مزاحیہ شاعری میں بدلنا

    لیجیئے جناب غالب کے ہی اشعار میں سے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
  2. محمد وارث

    ابنِ انشا کے خطوط خلیل الرحمٰن اعظمی کے نام

    کراچی ۵ ستمبر ۱۹۵۷ء پیارے خلیل، فرصت کی تلاش میں رہا تو تمھیں خط کبھی نہ لکھ پاؤں گا۔ علی الصبح کاروبار زندگی شروع کرنے سے پہلے یہ چند لفظ یا لفظیں تمھیں لکھ رہا ہوں۔ تمھاری یاد اکثر نہیں ہر روز آتی ہے۔ تم یہاں ہوتے تو ہم دونوں مل کر بہت کام کرتے۔ ایک سا سوچنے سمجھنے والے دوست کہاں ملتے...
  3. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    بہت شکریہ اعجاز صاحب آپ کی محبت کا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب واقعی کمال کام کر رہے ہیں۔ اور آسی صاحب نے تقریباً پانچ صفحوں پر اس بحث کو بیان کیا ہے، جس میں 'کہ' کا استعمال بیان کیا گیا ہے اور اسے شاعر پر چھوڑ دیا ہے اور میر کے جس شعر کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ انہوں نے 'کہ' کی...
  4. محمد وارث

    مومن خان مومن سے ایک گفتگو۔۔۔

    اچھی تحریر ہے تفسیر صاحب، بہت خوب۔
  5. محمد وارث

    ابنِ انشا کے خطوط خلیل الرحمٰن اعظمی کے نام

    کراچی ۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء جانِ من، آداب آپ کا ہماری زبان دیکھا۔ بھائی لوگوں نے تمھاری جو گت بنانے کی کوشش کی ہے اسے بھی دیکھا۔ بھائی تم دیوانگی ہمیشہ کرو گے تو لوگ اینٹ تو ماریں گے۔ اپنے ایک دوست کا شعر سن لو۔ کیا ہوا خشت اٹھا دے ماری، یا سرِ دامن نوچ لیا تم تو دوانے اس کے بہانے ہو چلے برہم...
  6. محمد وارث

    مراثیِ انیس ۔ انتخاب

    مرثیہ نمبر 1 (گزشتہ سے پیوستہ) حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوال منہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربال گھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یال گردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چال ہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھا پر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا جھک جاتے...
  7. محمد وارث

    شاہ است حسین

    رباعیات ۔ کنور مہندر سنگھ بیدی نغمۂ بربطِ کونین ہے فریادِ حُسین جادۂ راہِ بقا مسلک آزاد حُسین شوخیٔ لالۂ رنگین ہے کہیں خونِ شفق کس قدر عام ہوئی سرخیِ رودادِ حُسین زندہ اسلام کو کیا تُو نے حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے مر کے جینا سکھا دیا تُو نے بڑھائی...
  8. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    اعجاز صاحب آپ کی انتہائی پر خلوص رائے اور توجہ کیلیے میں آپ کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ ہم جیسے مبتدیوں کیلیے یہ باتیں مشعلِ راہ ہیں۔ جہاں تک "کہ" کا تعلق ہے تو گو عروض میں میرا درک واجبی بھی نہیں ہے کہ اس سال کے شروع میں میں عروض کی سنگین چٹانوں کے ساتھ سر ٹکرا رہا تھا۔ 'کہ' ہے تو در اصل...
  9. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    بہت شکریہ عمار آپ کا، نوازش۔ ارے بھائی معذرت کیسی بلکہ الٹا مجھے آپ کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ آپ کے اس سوال سے اعجاز صاحب بھی ادھر متوجہ ہوگئے، جیسا کہ انہوں نے تحریر فرمایا ہے۔ :)
  10. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    محترمہ زرقا مفتی صاحبہ آپکی پسندیدگی اور داد کیلیے بہت شکریہ آپ کا۔ آپ کی مفید رائے کیلیے بھی میں آپ کا شکر گزار ہوں، اگر کبھی اس غزل پر نظرِ ثانی کی تو آپ کی رائے یقیناً پیشِ نظر و مقدم رہے گی۔ نوازش آپ کی۔ ۔
  11. محمد وارث

    میری غزل ۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے

    عزیزانِ بزم ایک تازہ غزل آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، امید ہے اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔ دنیا میں تری درد کا درمان نہیں ہے ہر سمت خدا ہیں، کوئی انسان نہیں ہے طاقت کے نشے میں جو لہو سچ کا بہائے ظالم ہے، لٹیرا ہے وہ سلطان نہیں ہے یہ بات غلط ہے کہ میں باطل کو نہ جانوں یہ سچ ہے مجھے...
  12. محمد وارث

    گمشدہ حروف

    شمشاد بھائی یہ لفظ "رواراٹ" تھا اور کس کافر نے کبھی سنا یا پڑھا تھا وہ تو لغت دیکھ کر لکھ دیا تھا۔ مطلب اس کا "رونا دھونا، نوحہ و شیون، چیخ پکار" ہے۔ اب آپ ہی کوئی لفظ دے دیں۔
  13. محمد وارث

    قاتل کون تھا؟ ۔۔۔

    اچھی کہانی ہے تفسیر صاحب، زندگی کا ایک رخ یہ بھی ہے جو آپ نے پیش کیا۔ مزا آیا پڑھ کر۔
  14. محمد وارث

    لائبریری میں تقریب !

    اور احباب جس تاریخ اور وقت پر متفق ہو جائیں گے مجھے اس سے اتفاق ہوگا۔
  15. محمد وارث

    قضا نمازیں کیسے ادا کی جائیں۔۔؟

    میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ امن ایمان نے صرف یہ پوچھا کہ قضا نماز کیسے ادا کی جائے، وگرنہ اگر کوئی یہ پوچھ لیتا کہ نماز کیسے پڑھیں تو وہ ہلا کار مچتی اور وہ گھمسان کا رن پڑتا کہ رہے نام اللہ کا۔ میری علم دان خواتین و حضرات سے، جو کہ اس تھریڈ پر انتہائی سرگرم ہیں، استدعا ہے کہ اگر...
  16. محمد وارث

    شوق

    میرے شوق دا نیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کی تو سوچنا ایں ستمگار آ جا (صوفی تبسم کا غالب کے مندرجہ ذیل شعر کا منظوم پنجابی ترجمہ) ز من گرت نہ بود باور انتظار بیا بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا
  17. محمد وارث

    "بادہ"

    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو
  18. محمد وارث

    کلام راجہ مہدی علی خاں. تبصرے

    شکریہ اعجاز صاحب اچھا کام شروع کیا آپ نے۔ تبرکاً ان کے چند اشعار بعنوان "پنجاب کے دیہات میں اردو" پوسٹ کر آیا ہوں۔ انکی کوئی کتاب تو میرے پاس نہیں ہے لیکن کچھ بکھرا ہوا کلام ضرور موجود ہے، جیسے نقوش طنز و مزاح نمبر میں، "بیسویں صدی کی اردو شاعری" میں، "گلہائے تبسم" مرتبہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید...
  19. محمد وارث

    کلامِ راجہ مہدی علی خاں

    پنجاب کے دیہات میں اردو غمزدہ حسینہ کیوں بجھاتے ہو دِیا الفت کا پُھوکاں مار کے چاہتا ہے دل مرا روراں میں کُوکاں مار کے ڈنگوری اور بے بے ڈنگوری لے کے پے جا اس کو ابّا میری بے بے نے چُوچا مار سٹیا اللہ رکھا اور چارپائی منجی دا پاوا امّاں میتھوں نہیں ہے ٹُٹیا کل اس پہ اللہ رکھّا...
  20. محمد وارث

    یومِ سر سید مبارک

    بہت شکریہ اعجاز صاحب آپ نے ایک شہیدِ وفا کا ذکرِ خیر فرما کر بہت اچھا کام کیا۔ مشاہیر کی یاد بھی تو ایک نعمتِ ربانی ہے۔
Top