مرثیہ نمبر 1
(گزشتہ سے پیوستہ)
اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والی
خاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالی
اس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالی
خود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالی
کپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھے
اک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے
منہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ...