مرثیہ نمبر 3
(گزشتہ سے پیوستہ)
مطلعِ چہارم
پایا سجا جو اشہبِ گردوں مقام کو
چمکار کر ہَزبر نے تھاما لگام کو
زینِ فرس پہ چڑھ کے جو تولا حسام کو
آگے بڑھی جلو میں ظفر انتظام کو
چہرہ کی ضو سے خاک کو یہ مرتبا ملا
طبقہ زمیں کا چرخِ چہارم سے جا ملا
وہ حسن اور وہ رعب وہ بجلی سا راہوار
وہ...