مدحِ شبّیر - تابش دہلوی
تشنہ کاموں کے لیے تو ہمہ دم کُھلتا ہے
اک سمندر کی طرح دیدۂ نم کُھلتا ہے
حق نمائی کے لیے حق کے طلب گاروں پر
آج بھی سبطِ پیمبر کا علم کُھلتا ہے
حق پناہی سے یہ شبّیر کی معلوم ہوا
کربلا میں بھی کوئی بابِ حرم کُھلتا ہے
روشن الفاظ اترتے ہیں صحیفوں کی طرح
مدحِ شبّیر میں جب...