اچھے اشعار ہیں فاروقی صاحب، حسبِ حال۔
اعجاز صاحب نے درست نشاندہی کی ہے، زور آور کی جگہ کوئی اور لفظ لانے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے جیسے 'مالکِ ملک' وغیرہ
اپنے وطن میں لوگ نہیں بس مالکِ مُلک وڈیرے ہیں
واللہ اعلم باالصواب، نظامی صاحب۔
عام طور پر یہی مشہور ہے کہ یہ غزل شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کی ہے۔ چونکہ یہ اور اسی طرح کی بیسیوں مشہور غزلیں عوام اور بالخصوص قوالوں کی زبانوں پر ہیں سو ان میں یقیناً تحاریف بھی ہوئی ہیں، مصرعے اور اشعار بھی مختلف شکلوں میں ملتے ہیں۔
شیخ سید عثمان شاہ مروَندی علیہ الرحمہ معروف بہ لال شہباز قلندر ایک جلیل القدر صوفی ہیں اور انکے نامِ نامی کی شہرت عالم گیر ہے۔ انکی ایک غزل بہت مشہور ہے جس کی ردیف 'می رقصم' ہے، اس غزل کا کچھ تذکرہ مولانا رومی کی ایک غزل جس کی ردیف 'می گردم' ہے لکھتے ہوئے بھی آیا تھا۔ اس وقت سے میں اس غزل کی...
یہ چلن بہت عام ہو گیا ہے انٹرنیٹ کی وجہ سے، ابھی کچھ ہفتے پہلے زرقا مفتی صاحبہ نے 'فیس بُک' پر شکایت کی تھی کہ انکی ایک نظم کسی اور محترمہ کے نام سے ایک بلاگ پر تھی۔ صفدر ہمدانی صاحب کافی عرصے سے اس مسئلے پر شور مچا رہے ہیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔
لیکن خوشی کی بات ہے عمران صاحب کہ آپ کی...
شاہ صاحب، آج اتفاق سے یہ غزل بھی سامنے آ گئی اور آپ کا استفسار بھی :)
استاد قمر جلالوی نے یہ غزل سراج اورنگ آبادی (دکنی) کی مشہور و معروف غزل 'خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی' کی زمین میں کہی ہے۔