میرے خیال میں غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہو رہی ہے اگر لغت (یا املا) اور عروضی وزن کو ایک سمجھا جائے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، مثلاً
لغت میں لفظ دھیان (دے یان) ہے لیکن اس کا وزن صرف دان یا فاع ہے۔
لفظ پیاس یا پیار دونوں میں ے ہے لیکن ان دونوں کا وزن پاس اور پار یعنی فاع ہے۔
لفظ آنکھ، اس میں نون بھی...