السلام علیکم خلیل صاحب یاد آوری کیلیے۔
عارف صاحب نے جو دونوں مصرعے سرخ کیے ہیں ان دونوں میں وزن کا تو کوئی مسئلہ بالکل نہیں لیکن وقتِ سحر اور صبح و شام والا مصرع ان دونوں تراکیب کی وجہ سے مہمل ہو رہا ہے۔
شنیدہ ام بہ صنم خانہ از زبانِ صنم
صنم پرست و صنم گر و صنم شکن ہمہ اُوست
شاہ نیاز احمد بریلوی (رح)
میں نے صنم خانے میں صنم کی زبان سے سنا ہے کہ صنم پرست بھی وہی ہے اور صنم گر بھی وہی ہےا ور صنم شکن بھی وہی ہے۔
شاہ نیاز احمد بریلوی (رح) سلسلہٴ چشتیہ نظامیہ کے ایک نامور صوفی تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ اور دہلی میں نامور اردو شاعر اور مسلم الثبوت استاذ، مصحفی کے استاذ تھے جیسا کہ مصحفی نے خود اپنی کتاب "ریاض الفصحاء" میں ذکر کیا ہے۔ انہی شاہ نیاز کی ایک خوبصورت...
یہ فقرہ مولانا عبدالمجید سالک کا ہے اور انہوں نے اپنی خودنوشت "سرگزشت" میں لکھا ہے کہ ایک محفل میں انکی اور پطرس بخاری کی ملاقات ہوئی تو پطرس نے ازراہِ تفنن ان سے کہا کہ مولانا جب آپ کی نطموں کا مجموعہ شائع ہو تو اسکا نام "کلامِ مجید" رکھیے گا، جواب میں مولانا نے کہا کہ جب آپ کا مجموعہ شائع ہو...
دوسرا بھی ہار گئے۔
میں تو میچ چھوڑ کر سو گیا تھا، لیکن صبح صبح اہلیہ سے رپورٹ ملی کہ رات بارہ بجے کے قریب جب میچ ہارے تو پہلے چھوٹا جی بھر کے رویا اور پھر بڑا اور چھوٹا آپس میں لڑ پڑے اور ہار کا غصہ ایک دوسرے کو مار کر نکالا۔ جب ان کے شور سے اہلیہ کی آنکھ کھلی تو اس نے نیند خراب ہونے کا غصہ...
آپ کا خیال اپنی جگہ درست ہوگا محترم، لیکن مجھے بھی ایسے کئی نام یاد آئے ہیں جنہوں نے مثنوی کا منظوم ترجمہ مثنوی ہی میں کیا ہے اور غزل کا منظوم ترجمہ غزل میں اور رباعی کا رباعی میں۔ اور اس میں کیا مضائقہ ہے کہ اگر فارسی کی شعریت، فلسفہ، فکر اور مفاہیم کے ساتھ ساتھ صنف، ہیت، اور بحر کی پابندی بھی...
بہت خوشی ہوئی راشد صاحب یہ سب جان کر، ماشاءاللہ۔
اپنا ای میل ایڈریس آپ کو بھجوا دیا ہے۔
اور ہاں، محفل پر لنکس وغیرہ دینے پر قطعاً کوئی پابندی نہیں ہے فقط فون نمبر اور ای میل ایڈریس وغیرہ دینے پر پابندی ہے۔
والسلام
ناقدین درست کہتے ہونگے جناب لیکن رباعی نام ہی کچھ رُسوم و حُدود و قُیود کا ہے اور اسکا منظوم ترجمہ بھی ہمیشہ انہی حُدود و قُیود کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے بصورتِ دیگر رباعی کے منظوم ترجمے کی کچھ خاص ضرورت بھی نہیں رہتی۔
اجی نہیں قبلہ، میرے جذبات اتنے نازک نہیں ہیں، اور آپ بھی فکر نہ کریں، یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ میں ٹھہرا روایت پسند بلکہ روایت پرست تو بس اسی رو میں لکھ دیا تھا کہ رباعی کے منظوم ترجمے کی روایت یہی ہے۔
خوش رہیے برادرم :)
خوب ترجمہ ہے خلیل صاحب اور تصحیح کرنے والا میں کون ہوتا ہوں برادرم کہ یہاں میرے پر جلتے ہیں لیکن مجھے زیادہ خوشی ہوتی اگر رباعیات کا منظوم ترجمہ آپ رباعیات ہی میں کرتے۔
لیکن قطع نظر اس کے، پھر کہوں گا کہ خوب ترجمہ ہے۔ خوش رہیے محترم۔
از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند
مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا، اور خلق کی منت سماجت سے بے نیاز کر دیا گیا، شمع کی طرح اس بزم میں مجھے پگھلا دیا گیا اور اس سوختگی کی وجہ سے مجھے محرمِ راز کر دیا گیا۔
انتہائی خوبصورت نعتیہ رباعی
اے از رُخِ تو شکستہ خاطر گُلِ سُرخ
باطن ہمہ خونِ دل و ظاہِر گُلِ سرخ
زاں دیر برآمدی ز یُوسُف کہ بباغ
اوّل گُلِ زرد آمد و آخِر گُلِ سُرخ
اے کہ آپ (ص) کے رخ (کے جمال) سے گُلِ سرخ شکستہ خاطر ہے، اُس کا باطن تو سب دل کا خون ہے اور ظاہر گل سرخ ہے۔ آپ (ص) یوسف (ع) کے...