1
ادراک تھا امامؓ کو کیا ہے مقامِ عشق
سب کچھ نثار کر دیا اپنا بنامِ عشق
لے جا کے کربلا میں بھرا گھر لٹا دیا
حقا حسینؓ ابنِ علیؓ ہیں امام عشق
٭
2
لختِ دلِ بتول، وہ ابنِ علیؓ حسینؓ
لاریب عاشقانِ خدا کے ولی حسینؓ
ہو کر شہید زندۂ جاوید ہو گئے
لوحِ جہاں پہ نقش، بخطِ جلی حسینؓ
٭
3
خوں فشاں صبح و مسا...
آپ کی محبتوں کا شکریہ۔
کامیاب ہو سکتا ہے کہ آپ مجھ سے زیادہ ہوں۔ ویسے بھی کامیابی، ناکامیوں کا حاصل ہوتی ہے۔
پروگرامر اچھا ہونا شوق کے ساتھ ساتھ رزقِ حلال کمانے اور کچھ مزید خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔ :)
مستقبل تلاشنے سے بہتر ہے کہ مستقبل تراشا جائے۔
باقی خواہشات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا، وہ فطرتِ انسانی میں ہے۔
لیکن جب بھی کبھی کوئی خواہش کوشش کے باوجود پوری نہ ہو سکی، اس پر دکھ تو ہوا مگر اللہ کی رضا سمجھ کر آگے بڑھ گیا۔
ہم شاہ صاحب کو پیدائش سے 17885 سال قبل اردو محفل میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
اور امید کرتے ہیں کہ اپنے پیش رو محمود غزنوی کی روایات کو جاری رکھتے ہوئے محفل میں موجود بتوں کو پاش پاش کر دیں گے۔
تفنن بر طرف، دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ :)
اے وائے مقدر حق سے ابھی آویزشِ باطل ہے کہ جو تھی
دیوانوں کو زنداں اب بھی وہی تعزیرِ سلاسل ہے کہ جو تھی
طوفاں کے تھپیڑے ہیں کہ جو تھے نومیدئ ساحل ہے کہ جو تھی
انجامِ سفینہ ہوشربا آزردگئ دل ہے کہ جو تھی
وہ خارِ مغیلاں ہیں کہ جو تھے اف دورئ منزل ہے کہ جو تھی
اے رہرو منزل تیرے لئے اب تک وہی مشکل...
ماشاءاللہ، بہت عمدہ۔ شاعری کے حوالے سے تو اساتذہ ہی رائے دیں گے۔
دو توجہات
صحابی کا نام درست کر لیں خباب رض نام تھا
اور صحابہ کے نام پر رض والی علامت ڈال دیں
جزاک اللہ
دادا مرحوم محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی کے ایک اور غزل احبابِ محفل کی نذر
بابِ ادب و علم و خبر تک نہیں پہنچے
وہ لوگ کہ اب تک ترے در تک نہیں پہنچے
وہ درجۂ تکمیلِ اثر تک نہیں پہنچے
ناوک جو ترے دل سے جگر تک نہیں پہنچے
جو چاند کی منزل پہ پہنچ کر ہوئے نازاں
وہ لوگ مری گردِ سفر تک نہیں پہنچے...
پسند فرمانے کا شکریہ۔
اشعار اسی طرح ہیں، مجھے کوئی سقم نظر نہیں آیا،
اپنی بات کی تھوڑی اور وضاحت فرما دیں۔ جزاک اللہ
اگر آپ دوسرے شعر کے مصرع ثانی کی بات کر رہے ہیں تو اسے اس طرح سمجھیں
غموں سے، آہ کہ، دل نے شکست کھائی ہے
آہ کہ کو شروع میں لے جائیں، مطلب واضح ہو جائے گا۔
دادا مرحوم محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی کی ایک غزل احبابِ محفل کی خدمت میں:
بہم جو دست و گریباں یہ بھائی بھائی ہے
کبھی تو غور کرے کس کی جگ ہنسائی ہے
فغاں ہے لب پہ مری آنکھ بھی بھر آئی ہے
غموں سے آہ کہ دل نے شکست کھائی ہے
مٹا ہی دے گا زمانہ تمہیں نہ گر جاگے
خبر یہ گردشِ لیل و نہار لائی...