ابليس
يہ عناصر کا پرانا کھيل، يہ دنيائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کي تمناؤں کا خوں
اِس کي بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اِس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
ميں نے دِکھلايا فرنگی کو ملوکيت کا خواب
ميں نے توڑا مسجد و دير و کليسا کا فسوں
ميں نے ناداروں کو سکھلايا سبق تقدير کا
ميں نے مُنعم...