عقل گوید شش جہت حد است و بیروں راہ نیست
عشق گوید ہست راہ و رفتہ ام من بارہا
عقل نے کہا کہ شش جہت حد ہے اور اس سے باہر کوئی راستہ نہیں۔
عشق نے کہا کہ راستہ ہے اور میں کئی بار اس راستے سے گزرا ہوں۔
انگوٹھی کے بڑے سے نگینے کی طرح کا سا ہے۔ گہرے رنگ کا کچھ چمکدارسا ۔ مگر خاص بات یہ لگتی ہے کہ وزن میں پتھر کے مقابلے میں کافی ہلکا لگتا ہے۔واللہ اعلم۔
شاید میں نے اسے کھانا کھلایا تھا اور اس نے مجھے ۔سیّد ۔جان کر دیا تھا کچھ اچھی طرح یاد نہیں۔۔
زیست کے ساتھ ہی ختم ہوگا
یہاں ختم صحیح نہیں بندھا۔اسے درد پر موزوں کریں۔کہیں کہیں تھوڑی چستی میں کسر بھی ہے ۔ مثلاً۔
عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب کہ اُس شخص کو بُھلانا ہے
اب اُسی شخص کو۔ شاید بہتر ہو۔وغیرہ
گمان کے ساتھ خوش کی ترکیب کچھ غیر مقبول سا تاثّر دے رہی ہے۔
نیک گمان۔خوش فہم ۔ حسن ظن وغیرہ ۔محاوراتی طور پر عام و مقبول تراکیب ہیں۔اس پر تھوڑا غور کریں ۔باقی غزل خوب سادہ و شستہ ہے۔
ہوگئے گو شکستہ مرے بال و پر
آسماں کو ملی ان سے رفعت مگر
حاصل ِکاوش ِ اہل ِعلم و ہنر
جو ہوا بے خبر وہ ہوا با خبر
راز سینے میں ایسا ہے میرے جسے
ڈھونڈتے ہیں شب و روز شمس و قمر
زہد ِ زاہد رہا قیدِ دستار میں
قیس و فرہاد و وامق ہوے در بدر
آبلوں سے جنوں کو ملا حوصلہ
کتنی ہی منزلیں بن گئیں رہگزر...
واہ عاطف صاحب۔
میری نظر میں علم الاعداد کی تو کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔البتہ آپ کی تاریخ پیمائی اچھی لگی۔اگرچہ بچپن میں ض ظ اور غ والے الفاظ کو بہت استعمال میں لانا ترجیح ہوا کرتا تھا۔
یہاں مادہ کو درست نہیں برتا گیا ہے۔اس کا د مشدد ہو نا چاہیے۔اگر تشدید نہ ہوگی تو فیمیل "والی " مادہ ہو جائے...