وحی آمد سوئےموسی از خدا
بندهٔ ما را ز ما کردی جدا
تو برای وصل کردن آمدی
یا برای فصل کردن آمدی
مثنوی۔
موسی کی طرف وحی آئی۔"تو نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کیا۔کیا تجھے بندوں کو ہم سے ملانے کے لیے بھیجا ہے ؟ یا ہم سے جدا کرنے کے لیے بھیجا ہے ؟"
کمال انتخاب ہے @سید شہزاد ناصر بھائی۔واہ
ابن سعید صاحب میری رائے میں (صحیح ) طریقہ پہلا ہی ہے ۔اگر کوئی شکایت واقعی ہے تو اس کی کوئی بنیاد بھی ہو گی ۔اس بنیاد کی صحت پر ہی انتظامیہ کو مطلّع کیا جائے اور اسی پرانہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔
باقی انداز محلّ ِحسن ِاتفاق (یا شاید سوء اتفاق )سے مزاحیہ ہو گیا ۔ اس پر استہزاء کا تاثر...
واہ فصیح ۔ کیا اچھی یاد دلائی کوئی بیس برس پرانی یاد آگئی ۔
منشی پریم کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ان کا ایک افسانہے کا مکالمہ کیشو اور شیاما بہن بھائی والا ابھی تک یاد ہے۔۔۔۔"تین جانیں لےلیں ڈشٹ نے"۔
ہم تو بچپن سے زن مرید سنتےآئے ہیں ۔ شمشاد بھائی۔
رن تو لڑائی کے میدان کو کہتے ہیں۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
یہ انیس یا دبیر کے مرثیے کا مشہور مصرع ہے۔