شکر ہے کہ ادب کے بارے میں معلومات کم ہیں۔ ورنہ پتہ ہوتا کہ یہ اودھ کے شرفاء کا کیا قصہ ہے۔ اور جناب شعیب وہاں آغاز بہار میں کس قسم کے شریفانہ کام کرتے پائے جا رہے ہیں۔ :devil:
ویسے تو میں بھی کافی دن سے بزم شرفاء سے غائب ہوں کہ اجنبی اجنبی محسوس کرتا ہوں خود کو وہاں۔۔:ROFLMAO:
چکبست نارائن صاحب کا شعر تھا آپ کی آہ وفغاں کے جواب میں
یہ نوگرفتار بلا طرز فغاں کیا جانیں
کوئی ناشاد سکھا دے انہیں نالاں ہونا
چلیں کسی بہانے ہی سہی۔۔ اخوان کا خیال تو آیا۔۔ ویسے آخری ملاقات تک تو سر ریت میں تھا۔۔۔ اور آج ٹوہ میں۔۔ یعنی آسمان سے زمیں کی طرف پرواز میں ہیں۔۔ :cowboy:
بلہے نوںسمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں
من لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلا رائیاں
آل نبی اولاد علی نوں توں کیوں لیکاں لائیاں؟
جیہڑا سانوں سید سدّے دوزخ ملن سزائیاں
جو کوئی سانوں رائیں آکھے، بہشتی پینگاں پائیاں
رائیں، سائیں سبھنی تھائیں، رب دیاں بے پروائیاں
سوہنیاں پرے ہٹائیاں، تے کوجھیاں لے...
کیا ہی خوبصورت انداز میں واقعات کو بیان کیا ہے۔ ٹی وی دیکھنے کے شوق کی جو منظر کشی کی ہے۔ تو کئی مناظر ہمارے ذہن کے پردہ پر بھی رقصاں ہو گئے ہیں۔ بہت خوب ابن سعید بھائی :)