انیس بھائی اب میں کوئی منظوم ترجمہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔ :p لہذا سادہ ترجمہ حاضر ہے۔۔ محمداحمد بھائی کو بھی شائد اس میں دلچسپی ہو
اک کے پیچھے بہت سے تھے
وہ جان بچانے کے لیے بھاگا
بہت بھاگا، حد سے زیادہ بھاگا
مگر انہوں نے بھی پیچھا نہ چھوڑا
آخر جب وہ خود کو بے بس جاننے لگا
تو اس نے اپنی پوچھ ٹانگوں...
اک دے مگر سی چوکھے لگے
جان بچاون لئی او پجا
وا وا پجا
چوکھا پجا
پر اوناں پِچھا نا چھڈیا
آخر بے وس ھو کے اونیں
لتاں دے وچ پونچھل لے کے
ماڑے ھون دا ترلا پایا
سارے اونوں چھڈ کے ٹر گئے
پر جے اوتھے ۔ ۔ ۔
کتیاں دی تھا بندے ہندے ۔ ۔ ۔ فیر کی ہندا؟؟
صابر علی صابر
بہت شکریہ محسن۔۔۔ تم ہمیشہ ہی دل بڑھاتے ہو۔۔ جزاک اللہ :)
ہاں منے۔۔ یہ تو ہے۔۔ شکریہ :)
شکریہ احمد بھائی۔۔۔ آپ کے اس آخری جملے سے پتا نہیں میں کیوں خود کو باذوق باذوق محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔ :p
محمداحمد بھائی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔۔۔ کبھی انتخابات پر بھی پیار محبت والی گفتگو ہوئی ہے۔۔۔ o_O
اچھا ہر پارٹی اپنی اپنی مہم چلا رہی ہے۔۔۔ لیکن اس ضمن میں جو آج پیپلز پارٹی کا اشتہار اخبار میں دیکھا ہے تو ہنسی نہیں رک رہی۔۔۔ کہتے ہیں کہ اتنی بجلی بنا دیں گے۔۔۔ اور اب کوئی سازش اس قوم کو تاریکی...
اب یہ سوچوں تو بھنورذہن میں پڑجاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں
کیوںترے درد کو دیں تہمتِ ویرانی دل؟
زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑجاتے ہیں
موسم درد میں اک دل بچاؤں کیسے
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں
سوچ کا آئینہ دھندلاہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خدوخال بگڑ جاتے...
یہ شعر بہت ہی کمال ہے۔۔۔ یہ غزل بھی بہت عمدہ تھی۔۔ :)
اور آپ کا وہ شعر بھی جس کا دوسرا مصرعہ ہے "کہ جس پر جہاں اک تفاخر میں تھا"
ملک میں مداری چل رہی ہے۔ :)
حضرت حضرت طلحہؓ کی داستانِ زندگی بھی خوب ہے کہ آپؓ سرزمین بُصریٰ میں تجارت کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے کہ وہاں انھیں ایک اچھا راہب ملا۔ اُس نے آپؓ کو بتایا کہ جس نبی کے بارے میں انبیاء نے خبر دی ہے اس کا ظہور حرم کی زمین میں ہوگا اور اس کا وقت آگیا ہے۔ یہ سن کر طلحہؓ کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں وہ اس...