یہاں مطلع میں لو کی وجہ سے کیونکہ ایک اسلوب بن رہا ہے اس لیے اس کا وا ؤ گر نا مطلع کو کمزور کر رہا ہے۔ویسے تو کوئی حرج نہیں ۔
مصرع ذرا بہتر ہونا چاہیئے۔
اردو میں خسرہ میزلز کے لیے ہے۔ اور سمال پوکس کے لیے چیچک۔چکن پوکس کے لیے آکڑا کاکڑا یا چھوٹی چیچک اردو میں عام استعمال ہو تے ہیں ۔ واللہ اعلم
آبلہء مرغان اچھی ترکیب ہے۔
چون بپوشد جعد تو روی تو را ره گم کنم
جعد تو کفر من آمد روی تو ایمان من
مولانا
تمہارے(کاکل کے) پیچ جب تمہاراچہرہ چھپا لیں تو میں گمراہ ہو جاتا ہوں۔
تمہارے ان پیچوں کی پوشش میرا کفر ہو گیاہےاورتمہارا چہرہ میرا ایمان۔
غیر رویت هر چه بینم نور چشمم کم شود
هر کسی را ره مده ای پرده مژگان من
مولانا
تیرے چہرے کے سوا جو بھی دیکھوں میری آنکھوں کا نور کم ہو جائے۔
(سو) اے میرے مژگاں کے پردے ! ہر کسی کو راستہ نہ دے دیا کر۔
ویسےاس سادگی کے خصوصی پہلؤوں پر مطالب کی تخریج کے جملہ امکانات آپ ہی کی توجہ کی تخصیص اور اصرار کے مرہون منت ہیں۔
کسی خراج کی گداگر قیصری کا کہیں کوئی مقام نہیں ۔