صبر کرنے والے اس مقام سے آشنا کرادئیے جاتے ہیں کہ تکلیف دینے والا ہی صبر کی توفیق دے رہا ہے اور اس مقام پر “صبر“ ہی “شکر“ کا درجہ اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ اس کے مقرب اذیت سے تو گزرتے ہیں، لیکن بیزاری سے کبھی نہیں گزرتے۔ وہ شکر کرتے ہوئے وادی اذیت سے گذرجاتے ہیں۔
دنیا دار جس مقام پر بیزار...