پھر اُس طرف چلا ہوں فسانہ لیے ہوئے
ماضی کا ہر نفس میں ترانہ لیے ہوئے
پھر جا رہا ہوں جانبِ معمورۂ طرب
ویران دل میں غم کا خزانہ لیے ہوئے
پھر خود سے مکر کر کے رواں ہوئے سوئے نگار
سیر و سفر کا دل میں بہانہ لیے ہوئے
پھر کوئے سرخوشی کی طرف بڑھ رہا ہوں میں
شعر و شراب و چنگ و چغانہ لیے ہوئے
پھر...