ہم تو اہلِ وطن دردِ وطن مانگتے ہیں
ہم سیاست سے، محبت کا چلن مانگتے ہیں
شبِ صحرا سے مگر صبحِ چمن مانگتے ہیں
وہ جو ابھرا بھی تو بادل میں لپٹ کر اُبھرا
اُسی بجھے ہوئے سورج سے کِرن مانگتے ہیں
کچھ نہیں مانگتے بجز اذنِ کلام
ہم تو انسان کا بےساختہ پن مانگتے ہیں
ایسے غنچے بھی تو گل چیں کی...