نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    فلسفی کی اکثر معروضات سے متفق ہوں ہٹا دو تم ان آنکھوں سے یہ کاجل کا جو پہرا ہے نہ جانے کب سے اک قطرہ انہیں پلکوں پہ ٹھہرا ہے ... 'کاجل کا جو پہرا' سے پتہ چلتا ہے کہ کاجل کے بارے میں کچھ کہا جانا ہے لیکن دوسرے مصرعے میں الگ ہی بات ہے، یوں کہہ سکتے ہیں کہ مطلع دو لخت ہے کہ جب بھی دیکھتا ہوں...
  2. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    پہلے سلام پھر کلام، پ کا پارسل نہیں ملا تھا!
  3. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ظلم تو مت کرو بھائی گجریلا یا فیرنی میں عربی یا عجمی مرچ ڈال کر
  4. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    ارشد صاحب اب آپ کے لیے اگلا سبق یہ ہے کہ بھرتی کے الفاظ کو بالکل استعمال نہ کریں، ہی اور تو آپ کے پسندیدہ ہیں۔ اور دوسرا سبق یہ ہے کہ ایک ہی شعر یا ایک ہی مصرع میں ایک ہی بات کو مختلف الفاظ میں نہ دہرایا کریں۔ مطلع کو ہی دیکھو بُھلایا تو نہیں تم کو ہمیشہ یاد رکھا ہے بات دہرانے کی بجائے یوں بھی...
  5. الف عین

    برائے اصلاح

    ردیف میں گئی کو گَءِ باندھنا پسند نہیں آیا، ویسے جون ایلیا کی سند تو مل جائے گی کہ انھوں نے بھی 'نہیں' کو 'نئیں' لکھا ہے اور نَءِ باندھا ہے مطلع دو لخت محسوس ہوتا ہے اور یہ دیپ جلتے ہیں ہر کہیں لیکن رات خانہ خراب تک رہ گئ بھی. پاس تیرے عمل مگر غافل تیری قسمت کتاب تک رہ گئی ... پہلے مصرع میں...
  6. الف عین

    پیروڈی: تشنگی بھی سراب ہے شاید

    واہ، دلچسپ لیکن مطلع میں ایطا کا سقم ہے
  7. الف عین

    کھل گیا تھا زندگی کا ہم سے دروازہ غلط ! ۔۔۔ اصلاح کے لئے

    مطلب ہ اور الف والے؟ جیسے جاتا اور اور دروازہ؟ ہو سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ ہ کو الف سے ہی لکھا جائے۔ البتہ گناہ اور چُنا قافیہ غلط ہے کہ ہ کی آواز واضح ہے
  8. الف عین

    برائے اصلاح

    درست
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    کوئی خامی تو محسوس نہیں ہوتی
  10. الف عین

    برائے اصلاح

    نہیں پہلا مصرع اب درست لیکن دوسرا بحر میں نہیں نشے میں ہوا درست ہے
  11. الف عین

    کھل گیا تھا زندگی کا ہم سے دروازہ غلط ! ۔۔۔ اصلاح کے لئے

    صوتی قوافی کے سلسلے میں کنفیوز ہو شاید. دروازا. تقاضا، ہذا قافیے صوتی ہوتے کہ ان سب میں ز کی آوازیں ہیں، اسی طرح س، ص اور ث والے قوافی صوتی کہلائیں گے۔ ت اور ط والے بھی اسی قبیل کے ہیں۔ دروازہ اور دوبارہ ر ز والے الفاظ میں صوتی نسبت کچھ نہیں
  12. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    رات پھر رات ہے، یہ ظلم بھی کر سکتی ہے ذہن میں خوابوں کی تصویر بکھر سکتی ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    دل سے کسی کا پیار بھلانا نہ چاہئے اُس کا خیال دل سے مٹانا نہ چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک انسان کا جو دل ہے،وہ نازک سی چیز ہے دنیا میں دل کسی کا دُکھانا نہ چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درست دل میں اگر دیا ہے کسی کو مقام تو نظروں سے پھر تو اس کر گرانا نہ...
  14. الف عین

    برائے اصلاح

    ردیف ہر شعر میں با معنی نہیں لگ رہی.۔ یہ کیسی عطا ہے سویرے سویرے مجھے وہ ملا ہے سویرے سویرے ... ٹھیک جہاں میں کسی کو خبر ہوتی کیسے مرا گھر جلا ہے سویرے سویرے .... ٹھیک فلک کی بلندی کو چھونے لگا وہ یہاں جو اٹھا ہے سویرے سویرے ... ٹھیک اٹھو میکشو مہرباں آج ساقی ہے میخانہ کھلا ہے سویرے سویرے...
  15. الف عین

    غزل برائے اِصلاح

    درست ہے غزل لیکن مسلسل کس طرح کہہ سکتے ہیں؟
  16. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    فالودہ بھی بنا سکتے ہیں بنانا چاہیں تو، ویسے گاجر کا قلاقند کیسا بنتا ہے ، ذرا میں بھی چکھوں!
  17. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    خالی چائے؟ وائے کچھ نہیں؟
  18. الف عین

    مجھے انبیاء کے کردار کا تعارف چاہیے..

    لیکن ہہ بزم سخن میں کیوں؟ کاپی پیسٹ اور وہ بھی ان پیج کا ایک اور ثبوت، علیہ السلام تو درست کر دیتے اگر واقعی انبیاء سے اتنی محبت کا دعویٰ ہے!
  19. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    دل سے کسی کا پیار بُھلانا نہ چاہئے نقشِ خیال دل سے مٹانا نہ چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا مصرع بے ربط لگ رہا ہے۔ نقشِ خیال سے مطلب؟ انسان کا جو دل ہے ،وہ نازک سی چیز ہے دنیا میں دل کسی کا دُکھانا نہ چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درست عزّت کسی کی دل سے جو...
Top