غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
عیش بھی اندوہ فزا ہوگیا
ہائے طبیعت تجھے کیا ہوگیا
دشمنِ ارباب وفا ہوگیا
دوست بھلا ہوکے بُرا ہوگیا
یاد ہے کہنا وہ کسی وقت کا
ہوش میں آؤ تمہیں کیا ہوگیا
داغ وہ بہتر ہے جو مرہم بنا
درد وہ اچھا جو دوا ہوگیا
آپ سے اقرار کے سچے کہاں
وعدہ کیا اور وفا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کوئی کلمہ بھی مرے منہ سے نکلنے نہ دیا
وہ لٹایا مجھے قاتل نے سنبھلنے نہ دیا
نفسِ سَرد کی تاثیر شبِ غم دیکھو
شمع کو تابہ سحر میں نے پگھلنے نہ دیا
بدگماں تھا کہ تپ ہجر نہ کم ہوجائے
اُس نے کافور مری لاش پہ ملنے نہ دیا
اس جفا پر یہ وفا ہے کہ تمہارا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کیا کہوں تیرے تغافل نے، حیا نے کیا کیا
اِس ادا نے کیا کیا اور اُس ادا نے کیا کیا
بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میں
یہ اثر تیرے لبِ معجز نما نے کیا کیا
یاں جگر پر چل گئیں چھریاں کسی مشتاق کی
واں خبر یہ بھی نہیں ناز و ادا نے کیا کیا
میرے ماتم سے...