نتائج تلاش

  1. کاشفی

    داغ جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو - داغ دہلوی

    تصحیح فرمانے کے لیئے شکریہ سخنور صاحب! خوش رہیں۔
  2. کاشفی

    آئیے سب احمد ِ مختار کی باتیں کریں

    ماشاء اللہ۔ بہت ہی عمدہ بہت ہی خوب۔ جزاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  3. کاشفی

    کراچی کی مویشی منڈی 2008

    محسوس ہورہی ہے فضاؤں میں گوبر کی مہک لگتا ہے میرے شہر میں مویشی منڈی لگ گئی بہت بڑی مویشی منڈی سجائی ہے اس مرتبہ۔ زبردست۔
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کرنی پڑتی ہے ادا جب درِ ساقی پہ نماز سجدہ کرتا ہوں وضو کر کے مئے ناب سے میں (مولوی سید وحید الدین سلیم پانی پتی )
  5. کاشفی

    سا عو دی - سعودی - ہا ہا ہا

  6. کاشفی

    داغ کیا کہوں تیرے تغافل نے ، حیا نے کیا کیا - داغ دہلوی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب!
  7. کاشفی

    داغ عیش بھی اندوہ فزا ہوگیا - داغ دہلوی

    محمد وارث صاحب اور سخنور صاحب آپ دونوں کا بہت شکریہ۔۔۔
  8. کاشفی

    داغ کوئی کلمہ بھی مرے منہ سے نکلنے نہ دیا - داغ دہلوی

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! بہت شکریہ سخنور صاحب!
  9. کاشفی

    اُمید کی کرن - مولوی سید وحید الدین سلیم پانی پتی

    بیحد شکریہ جناب محمد وارث صاحب! خوش رہیں۔
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نہ میں بات کرتا اگر جانتا کہ یوں بات کرنے میں جائے گی رات (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  11. کاشفی

    داغ عیش بھی اندوہ فزا ہوگیا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) عیش بھی اندوہ فزا ہوگیا ہائے طبیعت تجھے کیا ہوگیا دشمنِ ارباب وفا ہوگیا دوست بھلا ہوکے بُرا ہوگیا یاد ہے کہنا وہ کسی وقت کا ہوش میں آؤ تمہیں کیا ہوگیا داغ وہ بہتر ہے جو مرہم بنا درد وہ اچھا جو دوا ہوگیا آپ سے اقرار کے سچے کہاں وعدہ کیا اور وفا...
  12. کاشفی

    تعارف میں سیدہ سارا ہاشمی غزل

    السلام علیکم سیدہ سارا ہاشمی - اُردو محفل میں خوش آمدید۔ خوش و خرم رہیں۔
  13. کاشفی

    داغ کوئی کلمہ بھی مرے منہ سے نکلنے نہ دیا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) کوئی کلمہ بھی مرے منہ سے نکلنے نہ دیا وہ لٹایا مجھے قاتل نے سنبھلنے نہ دیا نفسِ سَرد کی تاثیر شبِ غم دیکھو شمع کو تابہ سحر میں نے پگھلنے نہ دیا بدگماں تھا کہ تپ ہجر نہ کم ہوجائے اُس نے کافور مری لاش پہ ملنے نہ دیا اس جفا پر یہ وفا ہے کہ تمہارا...
  14. کاشفی

    داغ کیا کہوں تیرے تغافل نے ، حیا نے کیا کیا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) کیا کہوں تیرے تغافل نے، حیا نے کیا کیا اِس ادا نے کیا کیا اور اُس ادا نے کیا کیا بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میں یہ اثر تیرے لبِ معجز نما نے کیا کیا یاں جگر پر چل گئیں چھریاں کسی مشتاق کی واں خبر یہ بھی نہیں ناز و ادا نے کیا کیا میرے ماتم سے...
  15. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغ نہیں ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
Top