نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    مجلسِ رنداں میں مت لے جا دلِ بے شوق کو شیشہء خالی کی کیا عزت ہے میخواروں کے بیچ (آبرو)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اُس نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں (میر درد)
  3. کاشفی

    ن م راشد شہرِ وجود اور مزار ۔ ن م راشد

    شکریہ جناب سخنور صاحب نظم شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔
  4. کاشفی

    ن م راشد آگ کے پاس ۔ ن م راشد

    بہت خوب جناب! شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔
  5. کاشفی

    کوئی تجھ سا حسیں نہیں ملتا - حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری

    غزل ( حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری) کوئی تجھ سا حسیں نہیں ملتا خوب ڈھونڈھا کہیں نہیں ملتا مر کے بھی آسماں کے ہاتھوں سے چین زیرِ زمیں نہیں ملتا لیجئے مجھ سے دل کہ یہ سودا ہر جگہ ہر کہیں نہیں ملتا دیکھئے تو ہر اک جگہ ہے وہ ڈھونڈھیئے تو کہیں نہیں ملتا گفتگو اپنے دل سے کرتا...
  6. کاشفی

    نہ کچھ عیب ٹھہرے اگر دیکھ لینا - حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری

    غزل (حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری) نہ کچھ عیب ٹھہرے اگر دیکھ لینا تو مڑ کر ادھر اک نظر دیکھ لینا ابھی تو عدو تم سے کہتے ہیں سب کچھ نکل جائیں گے وقت پر دیکھ لینا چھپے گی نہ میری تمہاری محبت یہ مشہور ہوگی خبر دیکھ لینا قفس کو بھی صیاد ہم لے اُڑیں گے سلامت جو ہیں بال و پر دیکھ...
  7. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    میخانے کے قریب تھی مسجد بھلے کو داغ ہر ایک پوچھتا ہے کہ حضرت ادھر کہاں (داغ دہلوی)
  8. کاشفی

    جمال احسانی غزل ۔ جمال اب تو یہی رہ گیا پتہ اُس کا ۔ جمال احسانی

    بہت خوب ! شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔
  9. کاشفی

    جمال احسانی غزل ۔ جب کبھی خواب کی اُمید بندھا کرتی ہے ۔ جمال احسانی

    بہت شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  10. کاشفی

    جمال احسانی غزل ۔ سلوکِ نا روا کا اس لئے شکوہ نہیں کرتا ۔ جمال احسانی

    واہ واہ بہت ہی خوب۔۔ بہت شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے
  11. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    حُسن، ذرّوں سے اُبلتا ہے، کبھی تو جام اُٹھا دیکھتی ہیں جوش کی آنکھیں جو عَالم، تُو بھی دیکھ (جوش ملیح آبادی)
  12. کاشفی

    جوش نہ جانے رات کو تھا کون زینتِ پہلو - جوش ملیح آبادی

    غزل (جوش ملیح آبادی) نہ جانے رات کو تھا کون زینتِ پہلو مَچل رہی تھی ہوا میں شراب کی خوشبُو حریم صلح میں قائم تھا ایک مرکز پر مزاجِ عشق و تقاضائے حُسنِ عربدہ جُو وفا کی انجمن شوق میں تھی شِیر و شکر جراحت ِ دل صد چاک و تیغِ صاعقہ خُو مٹا چکا تھا فلک رسمِ ساغر و سنداں بھُلا چکا...
  13. کاشفی

    جوش گزر رہا ہے اِدھر سے تو مُسکراتا جا - جوش ملیح آبای

    شکریہ محمد وارث صاحب! شکریہ سخنور صاحب!
  14. کاشفی

    جوش ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا - جوش ملیح آبادی

    سخنور صاحب! محمد وارث صاحب! غزل کی پسندیدگی کے لیئے آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔ خوش رہیں۔
  15. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    گُماں تو جوش یہی ہے کہ ہے گدا ناقص نہ یہ کہ شاہ، خیالِ گدا نہیں کرتا (جوش ملیح آبادی)
Top