غزل
( حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری)
کوئی تجھ سا حسیں نہیں ملتا
خوب ڈھونڈھا کہیں نہیں ملتا
مر کے بھی آسماں کے ہاتھوں سے
چین زیرِ زمیں نہیں ملتا
لیجئے مجھ سے دل کہ یہ سودا
ہر جگہ ہر کہیں نہیں ملتا
دیکھئے تو ہر اک جگہ ہے وہ
ڈھونڈھیئے تو کہیں نہیں ملتا
گفتگو اپنے دل سے کرتا...
غزل
(حافظ محمد علی صاحب حفیظ جونہپوری)
نہ کچھ عیب ٹھہرے اگر دیکھ لینا
تو مڑ کر ادھر اک نظر دیکھ لینا
ابھی تو عدو تم سے کہتے ہیں سب کچھ
نکل جائیں گے وقت پر دیکھ لینا
چھپے گی نہ میری تمہاری محبت
یہ مشہور ہوگی خبر دیکھ لینا
قفس کو بھی صیاد ہم لے اُڑیں گے
سلامت جو ہیں بال و پر دیکھ...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
نہ جانے رات کو تھا کون زینتِ پہلو
مَچل رہی تھی ہوا میں شراب کی خوشبُو
حریم صلح میں قائم تھا ایک مرکز پر
مزاجِ عشق و تقاضائے حُسنِ عربدہ جُو
وفا کی انجمن شوق میں تھی شِیر و شکر
جراحت ِ دل صد چاک و تیغِ صاعقہ خُو
مٹا چکا تھا فلک رسمِ ساغر و سنداں
بھُلا چکا...