غزل
(جوش ملیح آبادی)
گزر رہا ہے اِدھر سے تو مُسکراتا جا
چراغِ مجلسِ رُوحانیاں جَلاتا جا
اُٹھا کے ناز سے شب آفریں نگاہوں کو
کسی کی سوئی ہوئی رُوح کو جگاتا جا
نگاہِ مہر سے اے آفتابِ عالم پاک
حقیر خاک کے ذرّوں کو جگمگاتا جا
مِلا کے مجھ سے نظر، عزتِ جنوں کی قسم
چراغِ محفلِ عقل و خِرد بُجھاتا...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
ارض و سما کو ساغر و پیمانہ کر دیا
رندوں نے کائنات کو میخانہ (1)کر دیا
اے حُسن! داد دے کہ تمنائے عشق نے
تیری حیا کو عشوہء تُرکانہ کر دیا
قُرباں ترے کہ اک نگہ التفات نے
دل کی جھِجک کو جراءت رندانہ کر دیا
صد شکر درسِ حکمتِ ناحق شناس کو
ہم نے رہینِ نعرہء مستانہ...
کافی ہاؤس
حبیب جالبؔ
کافی ہاؤس میں دن بھر بیٹھے، کچھ دُبلے پتلے نقّاد
بحث یہی کرتے رہتے ہیں، سُست ادب کی ہے رفتار
صرف ادب کے غم میں غلطاں، چلنے پھرنے سے لاچار
چہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیمار
اُردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر، میرؔ و غالبؔ، آدھا جوشؔ
یا اِک آدھ کسی کا مصرعہ، یا...
غزل
جاں نثار اختر
ایک تو نیناں کجرارے اور اس پر ڈوبے کاجل میں
بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں
آج ذرا للچائی نظر سے اُس کو بس کیا دیکھ لیا
پگ پگ اُس کے دل کی دھڑکن اُتری آئے پائل میں
پیاسے پیاسے نیناں اُس کے جانے پگلی چاہے کیا
تٹ پر جب بھی جاوے 'سوچے' ندیا بھر لوں...
بنگلہ نار
جمیل الدین عالی - ( ۱۹۵۹ )
باتیں بہت سنیں عالیؔ کی، اب سُن لو یہ بانی
جس نے بنگلہ نار نہ دیکھی، وہ نہیں پاکستانی
ہولے ہولے نوکا ڈولے، گائے ندی بھٹیالی
گیت کِنارے، دوہے لہریں، اب کیا کہوے عالیؔ
پیچھے ناچیں ڈاب کے پیڑ، اور آگے پان سُپاری
اِنھی ناچوں کی تھاپ سے اُبھرے...
غزل
(مومن خان مومن)
دل آگ ہے اور لگائیں گے ہم
کیا جانے کسے جلائیں گے ہم
اب گریہ میں ڈوب جائیں گے ہم
یوں آتش دل بجھائیں گے ہم
خنجر تو نہ توڑ سخت جانی
پھر کس کو گلے لگائیں گے ہم
گر غیر سے ہے یہ رنگ صحبت
تو اور ہی رنگ لائیں گے ہم
اے پردہ نشین نہ چھپ کہ تجھ سے
پھر دل بھی یوں ہی چھپائیں گے...
غزل
(شیخ امام بخش ناسخ)
پھر قیامت زا ہوا ہلنا لب خاموش کا
پھر نظر آنے لگا موسم جنوں کے جوش کا
پھر مرے سر نے کیا ہے داغ سودا کو کلاہ
پھر لیا کام آبلوں سے پاؤں نے پاپوش کا
شوق عریانی نے پھر کیں پیرہن کی دھجیاں
پھر اُتروایا جنوں نے بوجھ میرے دوش کا
لگ گئی ہے پھر جو ان روزوں میں چُپکی سی...
غزل
(حیدر علی آتش)
شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا
مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا
وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا
نکالے تھے دو چاند اُس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا...
محمد احمد بھائی شعر کچھ اس طرح ہے شاید،
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی
جس کو ہو جان و دل عزیز اُس کی گلی میں جائے کیوں
شاعر کا نام آپ بتا دیں۔ کیوں کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔:)
بہت خوبصورت غزل ہے۔۔ بیحد شکریہ جناب محمد وارث صاحب اور سخنور صاحب
غزل
(جوش ملیح آبادی)
سوزِ غم دے کے مجھے اُس نے یہ ارشاد کیا
جا ، تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی...