نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اللہ رے گُدازِ محبت کے معجزے کافر تھا جو دماغ، مسلماں ہے آج کل (جوش)
  2. کاشفی

    تاسف مقدس بٹیا کے بابا قضا کی پکار پر لبیک کہہ گئے

    انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔۔ آمین
  3. کاشفی

    جوش نہ جانے رات کو کیا میکدے میں مشغلہ تھا - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی نہ جانے رات کو کیا میکدے میں مشغلہ تھا کہ ہر نفس میں قیامت کا جوش و ولولہ تھا نگاہ، یار کی یوں اُٹھ رہی تھی جُھک جُھک کر زمین رقص میں تھی، آسماں پہ زلزلہ تھا لرز رہے تھے شگوفے، تڑپ رہے تھے نُجوم چھڑا ہوا نہیں معلوم کون مسئلہ تھا کبھی ہلال چمکتا تھا اور کبھی...
  4. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    جوش، باغی ہے مشیّت کا جوانِ صالح موسمِ کفر میں اسلام کا دعویٰ کیسا! (جوش ملیح آبادی)
  5. کاشفی

    جوش اگر گیسو بدوش آتا نہیں، اچھّا یونہیں آجا - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی اگر گیسو بدوش آتا نہیں، اچھّا یونہیں آجا کسی دن تیغ بردست و کفن در آستیں آجا حرم ہو، مدرسہ ہو، دیر ہو، مسجد، کہ میخانہ یہاں تو صرف جلوے کی تمنّا ہے، کہیں آجا سرِ راہِ طلب ہر گام ہے اک منزلِ تلخی کبھی اِن تلخیوں میں مثلِ موجِ انگبیں آجا بڑے دعوے ہیں اہلِ انجمن...
  6. کاشفی

    جوش دیر سے منتظر ہوں میں، بیٹھ نہ یوں حجاب میں - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب!۔خوش رہیں۔
  7. کاشفی

    جوش یہ بات، یہ تبسّم، یہ ناز، یہ نگاہیں - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب! بہت شکریہ جناب سخنور صاحب!
  8. کاشفی

    جوش اُن سے جا کر صبا یہ کہہ پیغام - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب! بہت شکریہ جناب سخنور صاحب!
  9. کاشفی

    جوش نُور رگوں میں دوڑ جائے، پردہء دل جَلا تو دو - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب! بہت شکریہ جناب سخنور صاحب!
  10. کاشفی

    جوش اے خُدا - جوش ملیح آبادی

    اے خدا (جوش ملیح آبادی) اے خُدا! سینہء مسلم کو عطا ہو وہ گُداز تھا کبھی حمزہ و حیدر کا جو سرمایہء ناز پھر فضا میں تری تکبیر کی گونجے آواز پھر اس انجام کو دے گرمی رُوحِ آغاز نقشِ اسلام اُبھر جائے، جلی ہوجائے ہر مسلمان حسین ابنِ علی ہو جائے دشتِ اسلام کے کانٹوں کو گلستاں کر دے...
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہاں، خو دو زرہ بھی تو ہے اسلام کا زیور باندھے گا فقط جامہء احرام کہاں تک (جوش)
  12. کاشفی

    جوش غرورِ اَدَب - جوش ملیح آبادی

    غرورِ اَدَب (جوش ملیح آبادی) میرے جلسے سے اُٹھ آنے پر خفا ہے ہمنشیں؟ شاعروں کی فطرتِ عالی سے تُو واقف نہیں جوہرِ ذاتی کا جب افسردہ ہوتا ہو وقار کفر سے بدتر ہے اُس موقع پہ وضع انکسار ناشناسانِ ادب بھُولے ہوئے ہوں جب شعُور اُن مواقع پر عبادت کے برابر ہے غرور دل ہمارا جذبہء غیرت...
  13. کاشفی

    جوش مردِ انقلاب کی آواز - جوش ملیح آبادی

    مردِ انقلاب کی آواز (جوش ملیح آبادی) اگر انسان ہوں، دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا میں ہر ناچیز ذرّے کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا تری اِس اُلفت کی سوگند، اے لیلائے رنگینی کہ ارضِ خار و خس کو سُنبلستاں کر کے چھوڑوں گا وہ پنہاں قوّتیں جو مِل کے زک دیتی ہیں دُنیا کو اُنہیں آپس ہی میں دست...
  14. کاشفی

    تنہا تنہا راتوں میں نیند نہیں آتی ہے

    نہیں محمد احمد بھائی!
  15. کاشفی

    جوش قسم ہے آپ کے ہر روز روٹھ جانے کی - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی قسم ہے آپ کے ہر روز روٹھ جانے کی کہ اب ہوس ہے اَجل کو گلے لگانے کی وہاں سے ہے مری ہمّت کی ابتدا واللہ جو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی پھُنکا ہوا ہے مرے آشیاں کا ہر تِنکا فلک کو خُو ہے تو ہو بجلیاں گرانے کی ہزار بار ہوئی گو مآلِ گُل سے دوچار کلی سے خُو نہ گئی...
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ بغاوت ہے جنوں سے کہ رہے پاسِ خرد یہ ہے توہینِ جوانی کہ خدا یاد رہے جوش ملیح آبادی
  17. کاشفی

    جوش جَلا کے میری نظر کا پردہ، ہٹا دی رُخ سے نقاب تُونے - جوش ملیح آبادی

    شکریہ سخنور صاحب! غلطی ہوگئی ۔ معذرت۔ اب پوری غزل پڑھیں۔
  18. کاشفی

    جوش کافر بنوں گا، کُفر کا ساماں تو کیجئے - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی کافر بنوں گا، کُفر کا ساماں تو کیجئے پہلے گھنَیری زُلف پریشاں تو کیجئے اس نازِ ہوش کو کہ ہے موسیٰ پہ طعنہ زن اک دن نقاب اُلٹ کے پشیماں تو کیجئے عُشّاق بندگانِ خُدا ہیں، خُدا نہیں تھوڑا سا نرخِ حُسن کو ارزاں تو کیجئے قدرت کو خود ہے حُسن کے الفاظ کا لحاظ ایفا...
  19. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    لکھنؤ کیا چھُٹ گیا، اے جوش دُنیا چھُٹ گئی اب کہاں ممکن وہ سامانِ غزل خوانی مجھے
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    معبود! طلب کر لے، قدرت کے مناظر کو کافر ہوں، اگر خود سے کی ہو کبھی مَے خواری جوش ملیح آبادی
Top