نتائج تلاش

  1. کاشفی

    جو دل میں شعر آئے وہ لکھ دیجیے -- نیا سلسلہ

    ہے عشق کی منزل میں یہ حال اپنا کہ جیسے لٹ جائے کہیں راہ میں ساماں کسی کا (بہادر شاہ ظفر)
  2. کاشفی

    ایک شعر ایک تلخ حقیقت --- نیا سلسلہ

    کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
  3. کاشفی

    ایک پیغام ایک شعر کی صورت ۔۔ کسی کے نام۔۔۔ نیا سلسلہ

    کس منہ سے شکر کیجئے اس لطفِ خاص کا پرسُش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں ہم کو ستم عزیر ستم گر کو ہم عزیز نامہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
  4. کاشفی

    ایک شعر ایک تلخ حقیقت --- نیا سلسلہ

    بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
  5. کاشفی

    ایک پیغام ایک شعر کی صورت ۔۔ کسی کے نام۔۔۔ نیا سلسلہ

    ناز ہے گُل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے (شیخ ابراہیم ذوق)
  6. کاشفی

    ایک شعر ایک تلخ حقیقت --- نیا سلسلہ

    مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے اگر یہ جانتے چُن چُن کے ہم کو توڑیں گے تو گُل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے سراغ عمرِ گذشتہ کا کیجئے گر ذوق تمام عمر گذر جائے جستجو کرتے (شیخ ابراہیم ذوق)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے اگر یہ جانتے چُن چُن کے ہم کو توڑیں گے تو گُل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے سراغ عمرِ گذشتہ کا کیجئے گر ذوق تمام عمر گذر جائے جستجو کرتے (شیخ ابراہیم ذوق)
  8. کاشفی

    درد تہمتِ چند اپنے ذمّے دھر چلے ۔ میر درد

    بہت شکریہ جناب سخنور فرخ منظور صاحب مکمل غزل سے محظوظ کرنے کے لیئے۔۔۔ ٹیگ نہ ہونے کی وجہ کر معلوم نہیں ہوتا ہے کہ جو غزل پوسٹ کرنے لگا ہوں وہ پہلے سے موجود ہے کہ نہیں۔
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    اشک سے نام نہیں لیتے کہ سُن لے نہ کوئی دل ہی دل میں اُسے ہم یاد کیا کرتے ہیں (شیخ امام بخش ناسخ)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    بتاں ماہ وش اُجڑی ہوئی بستی میں رہتے ہیں کہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں خدا رکھے محبت نے کئے آباد دونوں گھر میں اُن کے دل میں رہتا ہوں، وہ میرے دل میں رہتے ہیں کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا تخلص داغ ہے اور عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    سُنتا ہی نہیں وہ بُتِ گمراہ کسی کی ایسا نہ ہو سُن لے کہیں اللہ کسی کی (رند لکھنوی)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    چمن میں جو کل جا کے دیکھا گلوں کو نہ تیری سی رنگت نہ تیری سی بو ہے (رند لکھنوی)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    حور پر آنکھ نہ ڈالے کبھی شیدا تیرا سب سے بیگانہ ہے اے دوست شناسا تیرا دیدِ لیلیٰ کے لئے دیدہء مجنوں ہے ضرور میری آنکھوں سے کوئی دیکھے تماشا تیرا (رند لکھنوی)
  14. کاشفی

    ایک پیغام ایک شعر کی صورت ۔۔ کسی کے نام۔۔۔ نیا سلسلہ

    اشک سے نام نہیں لیتے کہ سُن لے نہ کوئی دل ہی دل میں اُسے ہم یاد کیا کرتے ہیں (شیخ امام بخش ناسخ)
  15. کاشفی

    شاہ نیاز تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا - شاہ نیاز بریلوی

    غزل (نیاز بریلوی) تونے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اُٹھا دیا وہیں محو حیرتِ بیخودی مجھے آئینہ سا بنا دیا وہ جو نقشِ پا کی طرح رہی تھی نمود اپنے وجود کی سو کشش سے دامن ناز کی اسے بھی زمیں سے مٹا دیا کیا ہی چین خوابِ عدم میں تھا، نہ تھا زلفِ یار کا کچھ خیال سو جگا کے شور ظہور نے مجھے...
  16. کاشفی

    درد تہمتِ چند اپنے ذمّے دھر چلے ۔ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے کس لئے آئے تھے ہم کیا کر چلے زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے دوستو دیکھا تماشہ یاں کا بس تم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے شمع کی مانند ہم اس بزم میں چشم تر آئے تھے دامن تر چلے ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے وہ بھی آڑے آگیا...
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    وہ اُدھر، رُخ اِدھر ہے میت کا لوگ فانی کو قبلہ رو تو کریں (فانی بدایونی)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    چلے بھی آؤ، وہ ہے قبرِ فانی، دیکھتے جاؤ تم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ وہ اُٹھا شور ماتم آخری دیدار میت پر اب اُٹھا چاہتی ہے نعش فانی دیکھتے جاؤ (فانی بدایونی)
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    آج کل بیقرار ہیں ہم بھی بیٹھ جا چلتے ہار ہیں ہم بھی منع گریہ نہ کر تو اے ناصح اس میں بے اختیار ہیں ہم بھی (میر تقی میر)
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
Top