نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے (منشی امیر احمد امیر مینائی)
  2. کاشفی

    جو دل میں شعر آئے وہ لکھ دیجیے -- نیا سلسلہ

    کہہ رہی ہے حشر میں وہ آنکھ شرمائی ہوئی ہائے کیسی اس بھری محفل میں رسوائی ہوئی (امیر مینائی)
  3. کاشفی

    جوش ذاکر سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    خَلق میں محشر بپا ہے اور تُو مصروفِ خواب خُون میں ذِلّت کی موجیں کھا رہی ہیں پیچ و تاب تیری غیرت کو خبر بھی ہے، کہ دشمن کا عتاب تیری ماں بہنوں کی راہوں میں اُلٹتا ہے نقاب اب تو زخمی شیر کی صورت بپھرنا چاہئے یہ اگر ہمت نہیں، تو ڈوب مرنا چاہئے دیکھ تو کتنی مُکدّر ہے، فضائے روزگار کس طرح چھایا...
  4. کاشفی

    جوش ذاکر سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    آہ تو اور سازِ برگِ عافیت کا اہتمام کیوں نہیں کہتا کہ باطل کی حکومت ہے حرام تجھ کو اور زنداں کا ڈر، کیوں اے غلامِ ننگ و فام جانتا ہے رہ چُکے ہیں قید میں کتنے امام؟ تو مثالِ اہلِ بیت پاک مرسکتا نہیں عشق کا دعویٰ ہے، اور تقلید کر سکتا نہیں دیکھ، مجھ کو دیکھ، میں ہوں ایک رندِ بادہ خوار رسمِ...
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    کیا قدر ہے فسانہء الفت کی یاں امیر کہتے ہیں ہم سنیں نہ سنیں تم کہا کرو (منشی امیر احمد امیر مینائی)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    کھاتے ہو قسم نہیں ہیں عاشق صورت تو امیر اپنی دیکھو (منشی امیر احمد امیر مینائی)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    مسجد سے نکل کر میں رہ بتکدہ بھولا تقدیر نے میری مجھے رکھا نہ کہیں کا (میر مظفر علی خاں اسیر لکھنوی)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    نہ رہا ہوش، بے خودی ہی تو ہے ساقیا! شغل مے کشی ہی تو ہے دل ہمارا اُداس ہے بلبل! نہیں لگتا چمن میں، جی ہی تو ہے (رند لکھنوی)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ دینا وہ اس کا ساغرمئے یاد ہے نظام منہ پھیر کر اُدھر کو، اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ (نظام شاہ نظام رامپوری)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    یوں تو روٹھے ہیں مگر لوگوں سے پوچھتے حال ہیں اکثر میرا (نظام شاہ نظام رامپوری)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    منہ پھیر کے ہنس ہنس کے وہ اقرار کی باتیں اس طور سے کرتے ہیں کہ باور نہیں ہوتا (نظام شاہ نظام رامپوری)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    خدا جانے مجھ کو دکھائے گا کیا یہ چھپ چھپ کے اپنا ادھر دیکھنا (نظام شاہ نظام رامپوری)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    کون پرساں ہے حالِ بسمل کا خلق منہ دیکھتی ہے قاتل کا (نظام شاہ نظام رامپوری)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    ربط غیروں سے بڑھا مجھ سے وفا چاہتے ہو دل میں سمجھو کہ یہ کیا کرتے ہو کیا چاہتے ہو عشوہ و ناز و ادا طعن سے کہتے ہیں مجھے ایک دل رکھتے ہو کس کس کو دیا چاہتے ہو (خیرالدین یاس شاگرد مومن)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے اللہ تیری شان کے قربان جائیے (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  16. کاشفی

    تعارف غزل ناز غزل صاحبہ کو اردو محفل میں صمیمِ قلب سے خوش آمدید

    خوش آمدید محترمہ غزل ناز غزل صاحبہ!
  17. کاشفی

    ایک شعر ایک خواہش جو کاش کبھی پوری ہو۔۔ نیا سلسلہ

    ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا (جوش ملیح آبادی)
  18. کاشفی

    رتجگے کے نام سخن۔۔ ایک نیا سلسلہ

    غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
  19. کاشفی

    ایک شعر ایک خواہش جو کاش کبھی پوری ہو۔۔ نیا سلسلہ

    یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے (خواجہ حیدر علی آتش)
  20. کاشفی

    ایک پیغام ایک شعر کی صورت ۔۔ کسی کے نام۔۔۔ نیا سلسلہ

    صبر مشکل ہے نہ کر صبر کا دعویٰ ہرگز عشق میں تجھ سے ظفر یہ کبھی ہونے کا نہیں (بہادر شاہ ظفر)
Top