خَلق میں محشر بپا ہے اور تُو مصروفِ خواب
خُون میں ذِلّت کی موجیں کھا رہی ہیں پیچ و تاب
تیری غیرت کو خبر بھی ہے، کہ دشمن کا عتاب
تیری ماں بہنوں کی راہوں میں اُلٹتا ہے نقاب
اب تو زخمی شیر کی صورت بپھرنا چاہئے
یہ اگر ہمت نہیں، تو ڈوب مرنا چاہئے
دیکھ تو کتنی مُکدّر ہے، فضائے روزگار
کس طرح چھایا...
آہ تو اور سازِ برگِ عافیت کا اہتمام
کیوں نہیں کہتا کہ باطل کی حکومت ہے حرام
تجھ کو اور زنداں کا ڈر، کیوں اے غلامِ ننگ و فام
جانتا ہے رہ چُکے ہیں قید میں کتنے امام؟
تو مثالِ اہلِ بیت پاک مرسکتا نہیں
عشق کا دعویٰ ہے، اور تقلید کر سکتا نہیں
دیکھ، مجھ کو دیکھ، میں ہوں ایک رندِ بادہ خوار
رسمِ...
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ
دینا وہ اس کا ساغرمئے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو، اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
(نظام شاہ نظام رامپوری)
ربط غیروں سے بڑھا مجھ سے وفا چاہتے ہو
دل میں سمجھو کہ یہ کیا کرتے ہو کیا چاہتے ہو
عشوہ و ناز و ادا طعن سے کہتے ہیں مجھے
ایک دل رکھتے ہو کس کس کو دیا چاہتے ہو
(خیرالدین یاس شاگرد مومن)