بُرا نہ مانو اگر ذکرِ حور میں نے کیا
غرور تم نے کیا تھا، قصور میں نے کیا
اب اس کو پردہ دری سمجھو یا کچھ اور کہو
تمہارے حُسن کا چرچہ ضرور میں نے کیا
(شاعر: مجھے معلوم نہیں )
کوئی حسیں ہو ہمیں اک نگاہ کر لینا
جگر کو تھام کے چپکے سے آہ کر لینا
نیاز مند ہوں کافی ہے ناز کرنے کو
سلام جا کے اُنہیں گاہ گاہ کرلینا
کوئی سنے نہ سنے مجھ کو دردِ دل کہنا
اثر کرے نہ کرے، مجھ کو آہ کرلینا
(شاعر: مجھے معلوم نہیں)
بہت سی عمر مٹا کر جسے بنایا تھا
مکاں وہ جل گیا تھوڑی سی روشنی کے لئے
بلا کے مجھ کو نکالا ہے اپنی محفل سے
وہ نیکیاں نہیں اچھی، جو ہوں بدی کے لئے
(مرزا ذاکر حسین صاحب ثاقب قزلباش لکھنوی)
جتنے منہ ہیں اتنی باتیں، دل کا پتہ کیا خاک چلے
جس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں
رک کے جو سانسیں آئیں گئیں مانا کہ وہ آہیں تھیں لیکن
آپ نے تیور کیوں بدلے، آہوں میں کسی کا نام نہیں
دل ہی پہ اپنا بس نہیں چلتا، ان کی شکایت کیا کیجے
آپ ہم اپنے دشمن ٹھہرے، دوست پہ کچھ الزام نہیں
(فانی...
غزل
(فانی بدایونی)
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے
آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں
جو اُجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے
عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے
پستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے
جان سی شئے بک جاتی ہے ایک...
ٹیگ نہ ہونے کی وجہ کر ایسا ہورہا ہے۔۔۔ معذرت خواہ ہوں۔
عمدہ و مکمل غزل سے محظوظ کرنے کے لیئے آپ کا بیحد شکریہ جناب سخنور فرخ منظور صاحب!
ٹیگ کا کوئی حل بتا دیں پلیز۔