نتائج تلاش

  1. کاشفی

    حسرت موہانی چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک - حسرت موہانی

    غزل (حسرت موہانی) چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ قدر تو کرتے مرے اظہارِ وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک یوں غیر سے بےباک اشارے سرِ محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے...
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    شکریہ عرفان صاحب!۔ بالکل آپ یہاں پوسٹ کریں۔۔ میں تو کافی دیر سے اس انتظار میں ہوں کہ اہلِ سخن یہاں اشعار پوسٹ کریں۔۔ آپ کا ذوق اعلیٰ ہے اس لیئے مجھے اُمید ہے کہ آپ اچھے اشعار ہی پوسٹ کریں گے۔۔
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    جو سینے میں دل ہے تو بارِ محبت اُٹھے یا نہ اُٹھّے، اُٹھانا پڑے گا (آرزو لکھنوی)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    درد سا اُٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب (ہادی مچھلی شہری)
  5. کاشفی

    رتجگے کے نام سخن۔۔ ایک نیا سلسلہ

    ہم نے رو رو کے رات کاٹی ہے آنسوؤں پر یہ رنگ تب آیا (مرزا جعفر علی خان اثر لکھنوی)
  6. کاشفی

    ایک شعر ایک خواہش جو کاش کبھی پوری ہو۔۔ نیا سلسلہ

    سب سے چُھپتے ہیں چھُپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں سیرِ گلشن وہ کریں شوق سے، تنہا نہ کریں (سید فضل الحسن حسرت موہانی)
  7. کاشفی

    جو دل میں شعر آئے وہ لکھ دیجیے -- نیا سلسلہ

    ہوتا نہیں اب ان کی محفل میں شمار اپنا یوں بیٹھے ہیں ہم جیسے اُٹھ سے گئے محفل سے (شوکت علی خاں فانی)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    شومیء عشق کہ ہم ہوگئے رسوائے جہاں خوبیء حسن کہ سب آپ کو پہچان گئے (رضا علی وحشت)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    میں سادہ لوح واقف رسمِ بتاں نہ تھا اقرارِ عشق کر کے گنہگار ہوگیا (رضا علی وحشت)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    محفلِ مئے میں ہیں زاہد کے فرشتے بھی شریک یہ تکلف تو نہ تھے بزم میں ہم سے پہلے (ریاض احمد ریاض خیرآبادی)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    توبہ سے ہماری بوتل اچھی جب ٹوٹی ہے جام ہوگئی ہے (ریاض احمد ریاض خیرآبادی)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    اُٹھے کبھی گھبرا کے تو میخانے میں ہو آئے پی آئے تو پھر بیٹھ رہے یادِ خدا میں (ریاض احمد ریاض خیرآبادی)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    دے کے ساغر مجھے کس لطف سے ساقی نے کہا "دیکھتے جاؤ ابھی ہم تمہیں کیا دیتے ہیں" (مرزا کاظم حسین محشر لکھنوی)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    زورِ نظر سے خودبخود بند نقاب کھُل گئے حوصلہ چشمِ شوق کا ہم نے انہیں دکھا دیا (مرزا کاظم حسین محشر لکھنوی)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    بلائیں لے رہا ہوں اس زمیں کے ذرّے ذرّے کی لُٹا تھا جس جگہ راہ وفا میں کارواں میرا (مرزا کاظم حسین محشر لکھنوی)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    کم بخت دل کو کیوں لگاوٹ ہے اُنہیں کے ساتھ ان کو تو شوق ناز و ادا سب کے ساتھ ہے (سید اکبر حسین اکبر اِلہ آبادی)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    غیر کے ذکر میں کرتے نہیں میرا وہ لحاظ تذکرے آتے ہیں اور نام بنام آتے ہیں (سید اکبر حسین اکبر اِلہ آبادی)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    ایک جھلک ان کی دیکھ لی تھی کبھی وہ اثر دل سے آج تک نہ گیا (سید اکبر حسین اکبر اِلہ آبادی)
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچہ نہیں ہوتا (سید اکبر حسین اکبر اِلہ آبادی)
Top