نتائج تلاش

  1. الف عین

    بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘

    جس کی فطرت سدا شوخی و ناز تھی وہ ستم گر مجھے بالمشافہ ملا ... بالمشافہ کے ساتھ پہلا مصرع ربط نہیں رکھتا ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے .. یہ لکھ چکا ہوں کہ جب تک 'اس دولت' نہیں کہا جائے، ربط نہیں پیدا ہوتا ناز ہے اس خزانے پہ مجھ کو بہت یا اس قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا آسمان و زمیں دم بخود رہ...
  2. الف عین

    کسی گہرے نشے سے زندگانی لُوٹ جاتی ہیں: غزل برائے اصلاح

    محبت کو نبھانے کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں تو ہم سے چاہتیں بیزار ہو کر روٹھ جاتی ہیں ہی بہتر ہے لیکن چاہتیں کیوں بیزار ہو سکتی ہیں، یہ تم کو ہر جگہ واضح کرنا پڑے گا! مختصر یہ کہ بیانیہ پسند نہیں آیا لیکن جب تک دوسرا مطلع نہ کہ سکو، اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ مطلع کی تکنیکی مجبوری کی وجہ سے اکثر...
  3. الف عین

    غزلیات برائے تبصرہ

    اے حزیں اپنی ہی پہچان کوجو بھول گیا فاسق وفاجرہے وہ سب کو بتاتے رہئے .. دوسرا مصرع بحر سے خارج پیار جب حد سے زیادہ ہو تو مکاں ہوتا گھر بیچ رشتوں کی ہر دیوار گراتے رہیئے دوسرا. ایضاً پیار جب حد سے زیادہ ہو تو مکاں ہوتا گھر بیچ رشتوں کی ہر دیوار گراتے رہیئے .. بحر سے خارج باقی بعد میں
  4. الف عین

    کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں

    آبشار کا مؤنث ہونا مجھے بھی عجیب لگا، دہلی لکھنؤ سب جگہ مذکر ہی سنا ہے۔ مولوی نیر اور نوازش صاحبان کہاں کے ہیں؟ ممکن ہے اس علاقے میں مؤنث بولا جاتا ہو۔ ظاہر ہے کہ جب ظہیراحمدظہیر بولتے آئے ہیں تو ان کے علاقے میں بولا جاتا ہو گا ۔ اہلِ زبان تو میرے خیال میں نہیں بولتے
  5. الف عین

    یادوں کے اک چراغ کو روشن کیے ہوئے

    ظہیر میاں کے مشوروں کے علاوہ الفاظ تھے یا زہر میں خنجر بجھے ہوئے 'یا' نہیں، 'کہ' استعمال کرو بچھڑا جو اپنی اصل سے،گھر کا نہ گھاٹ کا محاورہ بے ربط لگ رہا ہے، ربط کے لیے 'وہ ہوا' کی کمی ہے ایک تجویز بچھڑا جو اصل سے، رہا گھر کا نہ گھاٹ کا
  6. الف عین

    دل میں الفت کے چراغوں کو جلائے رکھنا---برائے اصلاح

    سماں درست ہے۔ سما عربی بمعنی آسمان ہوتا ہے اُس نے آنا ہے ترے گھر میں جسے چاہا تھا پنجابی محاورہ ہو گیا، شستہ اردو ' اس کو آنا ہے' ہو گی۔ لیکن تب بھی بیانیہ اچھا نہیں، جسے چاہا تھا کا مطلب یہ بھی نکل سکتا ہے کہ جس کو بلانا چاہتے تھے! جس سے چاہت/الفت تھی، وہی شخص ہے آنے والا سے یہی بات بہتر ادا...
  7. الف عین

    سبھی یہاں پر محبتوں میں سنا رہے ہیں سزا کی باتیں - برائے اصلاح

    میاں تم کو کچھ باتیں سنانے کو جی چاہ رہا ہے ۔ کچھ سمجھے میں کیا کہہ رہا ہوں باتیں سنانا محاورے کے مطابق مطلب دیتا ہے ' ڈانٹنا، غصے کا اظہار کرنا۔ اگر یہ مطلب نہیں ہے تو باتیں،' کی' جاتی ہیں، سنائی نہیں جاتیں۔ مطلع اور دوسرت اشعار میں سنانے کے فعل کو بدلو۔
  8. الف عین

    عقل مند چیونٹی از محمد خلیل الرحمٰن

    اب بچوں کی نظموں بلکہ نرسری رائمز کی ای بک کی تیاری کرو
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    میں بھی ظہیر اور عاطف صاحبان کی تائید کروں گا، اگر کوئی اسے وزن میں لے آئے تو اصلاح کی جا سکتی ہے۔ میرے قابو میں تو یہ بلی نہیں آتی!
  10. الف عین

    کسی گہرے نشے سے زندگانی لُوٹ جاتی ہیں: غزل برائے اصلاح

    مزید یہ کہ سنو رہتا نہیں رشتہ کوئی.... سنو لفظ بھرتی کا ہے، اس کی جگہ 'کبھی' استعمال کیا جا سکتا ہے
  11. الف عین

    ہیری پوٹر کس کس نے پڑھ لی (3) از محمد خلیل الرحمٰن

    بنے بنائے منے منائے ہیں مابدولت تو۔ مکمل کر کے بھیج دیں
  12. الف عین

    بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘

    شعر نمبر 2، 3 اور 6 پر میرے پرانے کمینٹس دوبارہ دیکھیں دو نئے اشعار کیسی ہے اے خدا یہ مری مفلسی میرے دامن میں ہی اشک و نالہ ملا .. کیسی کی ی کا اسقاط ناگوار ہے اس کے علاوہ مصرع میں ربط کی کمی ہے اے دل سوختہ شکر تو کر ادا رنج سے تو تجھے اب افاقہ ملا ... افاقہ ہوا محاورہ ہے، ملا نہیں دل سوختہ کی...
  13. الف عین

    آن لائن جریدہ 'سمت' کے شمارے 44 کا اجراء

    کل تصحیح کرنے بیٹھا تو معلوم ہوا کہ دوسرا مضمون بھی اسی کے ساتھ پیسٹ ہو گیا تھا، ایک ایسی غلطی جس کی نشاندہی کسی نے نہیں کی تھی!
  14. الف عین

    برائے اصلاح

    متقدمین اس کو شاید روا رکھتے ہوں، لیکن آج کل تو اسے غلط ہی مانا جا رہا ہے۔ زبردستی استعمال کرنا ہو تو اور بات ہے۔ مگر روانی پر خود ہی غور کریں کہ درست نہیں لگتی!
  15. الف عین

    برائے اصلاح

    دھیان ہندی لفظ ہے اور اسے فارسی کے مطابق غنہ بنا دینا یا کسرَ اضافت لگانا درست نہیں، اس لیے پرانی اور نئی دونوں شکلیں غلط ہیں ہم پیشتر چلے ہیں کہ پسماندہ ہیں ہم کہتے ہیں کہ بہار ہے پر ہم خزاں میں ہیں پس ماندہ کا ن معلنہ نہیں، غنہ ہوتا ہے پیشتر چلے ہیں بھی بے معنی لگتا ہے ہم آگے بڑھ گئے ہیں کہ...
  16. الف عین

    غزل کی اصلاح درکار ہے

    باقی تو درست لگ رہے ہیں اشعار دل تو اک میرا جل کے راکھ ہوا شہر میں ہر طرف دھواں کیوں ہے .. دل تو بس میرا..... بہتر ہو گا شاید وہ بچھڑ کر بھی ساتھ ہے تو شکیل گریہ و آہ کیوں فغاں کیوں ہے .. دوسرے مصرعے کی روانی بہتر ہو سکتی ہے، جیسے آہ و زاری ہے کیوں، فغاں...
  17. الف عین

    کسی گہرے نشے سے زندگانی لُوٹ جاتی ہیں: غزل برائے اصلاح

    مطلع میں لوٹ جانا کا قافیہ چھوڑ دو۔ لوٹ لینا درست محاورہ ہے، لوٹ جاتا یوں بھی غلط ہے مفہومِ سمجھ سکوں تو کچھ مشورہ دوں، ورنہ تب تک بغیر مطلع کے ہی رہنے دو
  18. الف عین

    بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘

    اا عرصے میں پوری غزل روائز ہو گئی ہے بس یہی ایک شعع دیکھنے کے لیے باقی ہے کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی آج کیوں مجھ سے وہ بالمشافہ ملا پہلے مصرع میں 'جس کی' کے بغیر ربط نہیں بنتا۔
  19. الف عین

    بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘

    مسلسل غزل لگتی ہے، کیا مبارکباد دی جائے؟ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا ... ربط یہاں بھی مضبوط تو نہیں مگر چل سکتا ہے ایک عرصہ ہوا اس کو دیکھا نہیں وہ سراپا مگر ناز و عشوہ ملا ... یہ یا اس کا نیا روپ، دونوں میں یہ غلطی محسوس ہوتی ہے کہ سراپا ناز وغیرہ تھا یا ہے کے...
  20. الف عین

    ہماری بے حسی ہم کو کہاں تک لے کے جائے گی---برائے اصلاح

    یی بات تو میں خود بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ ساری غزلیں اب بھی ایسی ہی ہیں جنہیں بس قابل قبول کہا جا سکتا ہے۔ کہیں خیال کی ندرت دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ روزانہ تازہ غزل نہ کہیں اور وقت مشق کرنے میں گزاریں۔ اب تک شاید سو غزلیں تو ہو گئی ہوں گی آپ کی، ان کو ہی دیکھتے رہیں۔ وقت...
Top