نتائج تلاش

  1. الف عین

    1992 کی ایک غزل

    صنعت کا استعمال تو بہت پسند آیا، لیکن دو تین مصرعوں میں غلطیاں ہیں ناتواں دل کی دھڑکنوں کی قسم کچھ تو دل بے قرار آپ کا ہے .... واضح نہیں ہوا، ناتواں دل کس کا ہے؟ دل بے قرار شاعر کا ہے یا محبوب کا؟ یہ نشہ آپ ہی کی چاہ کا ہے .. نشہ کا تلفظ غلط ہے، اس کے علاوہ یہ مصرع بھی 'کا ہے' پر ختم ہو رہا...
  2. الف عین

    برائے اصلاح

    مجھے تو یہ بھی غلط لگ رہا ہے، دوسرے احباب کیا کہتے ہیں,؟
  3. الف عین

    محشر کو بھول بیٹھے دنیا میں دل لگا کر---برائے اصلاح

    بھائی ارشد چوہدری کیا میری بات کا دل پر اثر لے لیا؟ لیکن غور کریں تو آپ کو میری بات میں یقیناً دم محسوس ہو گا
  4. الف عین

    برائے اصلاح

    باقی تو درست ہے غزل لیکن وبال کرنا درست محاورہ نہیں. وبال پیدا کرنا، کھڑا کرنا وغیرہ درست ہیں۔ اس قافیے کے شعر کو نکال ہی دو
  5. الف عین

    طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے

    شیشے کی مثل بندہ میں حساس ہوں بہت دشمن کے حملے روک سکوں مجھ کو ڈھال دے پہلی بات تو یہ ہے کہ یی شعر دعائیہ ہے، اس کا ثبوت نہیں ملتا، دوسرے 'بندہ میں' بندَ مَ ' تقطیع اچھی نہیں۔ تیسرے یہ کہ بندہ لفظ بھی کچھ. فٹ نہیں لگ رہا۔ اور ایک یہ کہ شیشہ نازک ہوتا ہے، حساس نہیں۔ مزید یہ کہ' وہ ڈھال' ہونا...
  6. الف عین

    میرا بھالو، گول کچالو :نظم از:: محمد خلیل الرحمٰن

    بہتری تو ہر کلام کی ممکن ہے، لیکن غلطی تو کوئی نہیں تھی، اس لیے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ظہیر اور عاطف صاحبان کے مشورے اچھے ہیں، قبول کر لیں۔
  7. الف عین

    تو سوچتا ہے : غزل برائے اصلاح

    نیر کا ہندی لفظ اردو میں مجھے پسند نہیں ہے لیکن محفل کے پاکستانی شعراء بے تکلفی سے جیون، نیر وغیرہ استعمال کرتے ہیں کہ کبھی کبھی مجھے بخش دینا پڑتا ہے! سمت کے لیے ایک صاحب نے ناول کا ایک باب بھیجا، انہیں عنوان 'سلاسلِ نیر' بدلنے کا مشورہ دیا تو ناراض ہو گئے، اور واپس لے لیا اور آخر اسی نام سے...
  8. الف عین

    طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے

    میں تو اپنے مشورے پر قائم ہوں کہ کھال دے کے ساتھ کوئی رواں مصرع نہیں بن سکتا
  9. الف عین

    طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے

    روانی اچھی نہیں۔ کیا کھال ڈھال قوافی استعمال کرنا ضروری ہے؟
  10. الف عین

    محشر کو بھول بیٹھے دنیا میں دل لگا کر---برائے اصلاح

    بھائی ارشد، آپ ایک غزل روزانہ کا معمول چھوڑ نہیں رہے ہیں۔ میں یہ مشورہ دے چکا ہوں کہ آپ کی کہی ہوئی دو ڈھائی سو غزلوں میں سے ایک دو ہی ایسی ہوں گی جس میں دو تین اشعار اچھے ہوں گے۔ وہی دو چار خیالات ہیں جن کو الفاظ بدل بدل کر اشعار کہتے جا رہے ہیں۔ کسی دوسرے کی غزلیں سمجھ کر غور کریں تو آپ کو خود...
  11. الف عین

    طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے

    کھانا بھی گرم کر دے ، جو انڈے ابال دے 'بھی' استعمال کرنے کی کیا معنویت ہے؟ بھی یا تو دونوں فقروں میں استعمال کیا جائے، جو نا ممکن ہے۔ ممکن یہ ہے کہ پہلے فقرے میں بھی جو استعمال کیا جائے کھانا جو گرم.... نیا شعر پسند نہیں ایا، نکال ہی دو
  12. الف عین

    تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں----برائے اصلاح

    پہلے دونوں شعر درست ہو گئے اچھا سفر کٹے گا ، دونوں کا اس طرح سے تجھ کو اگر تُو مانے میں ہمسفر بنا لوں --------------- اس کو یوں لکھیں تو بہتر ہے تجھ کو، اگر تُو مانے، میں ہمسفر بنا لوں تیرے ہے دم قدم سے دل کے جہاں میں رونق گھر کو بھی کیوں نہ ایسے جنّت نما بنا لوں ------------- پہلے مصرع میں...
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست
  14. الف عین

    بغرض اصلاح : ’’اشک و خوں دے گیا عمر بھر کے لئے‘‘

    اوہو، متن انلارج کر کے دیکھتا تو یہ غلطی نہ ہوتی ۔ تب درست ہے شعر
  15. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    اب مجھے جانے کی.... میں جانے کی ے کا اسقاط گوارا نہیں، الفاظ بدل دد باقی درست لگتی ہے غزل
  16. الف عین

    طرحی مشاعرہ : کشتی مری بھنور سے خدایا نکال دے

    ماں کے علاوہ کون ہے جو سرد رات میں کھانا گرم کرے مرا ، انڈے ابال دے یا کھانا گرم کرے کبھی انڈے ابال دے .. گرم کا تلفظ ر پر زبر نہیں، جزم کے ساتھ ہے اسی طرح ایسا خیال اپنے ذہن سے نکال دے ذہن بھی گرم کی طرح فعل ہے، فعو نہیں شیشے کی مثل ہوں میں بہت پر حساس ہوں پر حساس سمجھ نہیں سکا۔ حسّاس کہو یا...
  17. الف عین

    تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں----برائے اصلاح

    یہ تیری ہم نشینی میرے لئے اہم ہے دل چاہتا ہے میرا سب سے تجھے چھپا لوں ----------------یا جی چاہتا ہے میرا اپنا تجھے بنا لوں ----------------- ہم نشینی کی اہمیت کو ثابت کرنے والا دوسرا مصرع ہونا چاہیے تب ہی ربط قائم ہو سکے گا آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری جو راستے میں آئیں کانٹے سبھی...
  18. الف عین

    بغرض اصلاح : ’’اشک و خوں دے گیا عمر بھر کے لئے‘‘

    عطیہ بطور فعلن قابل قبول ہے لیکن اگر اس کی جگہ تحفہ ہی کر دیا جائے تو جھگڑا پیدا ہی نہیں ہو گا! مطلع میں عشق اور سودا کی فتح کی بات سمجھ میں نہیں آئی دوسرا شعر یہ متاعِ جہاں اور مری خسروی! وقف ہیں’ ہستی ٔ منتظرَ‘ کے لئے بھی سمجھ نہیں سکا، بستی ویسے ہندی لفظ ہے اس کے ساتھ ہمزہ اضافت غلط ہے باقی...
Top