پھول بھی ترے پار ہو سکتا ہے؟ مطلع کا بیانیہ ذرا گڑبڑا گیا ہے
لوٹنے پہ ترے لوٹے ہیں پرانے جذبات
پیار تو پیار ہے دو بار بھی ہو سکتا ہے
.. پہ کی جگہ پر، درست
گر بھرے شہر میں ہو ایک اکیلا انسان
اپنوں کے درد سے دو چار بھی ہو سکتا ہے
.. ٹھیک
میں اگرچے کوئی دل پھینک نہیں پر تیری
ان اداؤں سے مجھے...