نتائج تلاش

  1. الف عین

    اصلاحِ سخن : ہم اس کا رنج نہ کرتے اگر تو کیا کرتے:

    نہ ہم یوں اشک بہاتے نہ التجا کرتے اگر نہ دل تری الفت میں مبتلا کرتے .. التجا کس بات کی؟ اس کا ذکر بھی کیا جائے چلا گیا جو ہمیں چھوڑ کر خفا ہو کر ہم اس کا رنج نہ کرتے اگر تو کیا کرتے ... دو بار کر اچھا نہیں لگتا، صرف خفا ہو کر استعمال کیا جائے بدل رہا تھا زمانہ تو یہ بتاؤ ہمیں بدلتے ہم نہ اگر...
  2. الف عین

    نئی غزل برائے اصلاح

    درست ہے غزل بہت اور بڑا دونوں استعمال کیے جاتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ سیانا کے ساتھ بڑا ہی رکھیں، البتہ رشتہ بہت پرانا کر دیں۔ کہ سیانا اور بڑا دونوں عمومی بول چال کے الفاظ ہیں
  3. الف عین

    اصلاح و تبصرہ

    عطش عطش کی پکاروں سے کُو بہ کُو ہوگا ابھی تو رقصِ جنوں محوِ آرزُو ہوگا ... دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا ابھی تو امن کی تتلی نے پر کترنے ہیں ابھی تو رنجشِ دوگام گُفتگُو ہوگا ... دوسرا مصرع ایضاً، پہلے میں بھی تتلی کو کس کے پر کترنے ہیں؟ اگر 'نے' کو پنجابی سمجھ کر 'کو' میں بدلا جائے، تب بھی سمجھ میں...
  4. الف عین

    سوچا ہے اس جہان میں بن کے رہیں گے اجنبی----برائے اصلاح

    اپنا نہیں جہان یہ ہم ہیں یہاں پہ اجنبی (اگر --(یہاں پر اجنبی) لکھوں تو پر وزن میں نہیں آتا) دل کو لگائیں کیوں یہاں آنا نہیں ہے پھر کبھی ------------ جہاں پہ اور پر دونوں ممکن ہوں تو پر استعمال کرنا چاہیے ورنہ جہاں بحر میں صرف پہ (یعنی پ) کی گنجائش ہو، وہاں اسی کو رکھا جاتا ہے میں اکثر کہتا ہوں...
  5. الف عین

    ترس ہم پر اگر وہ کھا رہے ہیں

    اچھی غزل ہے، یہ تعریف تو کرنی ہی بھول گیا بلکہ یہ غلط فہمی ہوئی کہ اصلاح کے لیے پیش کی گئی ہے
  6. الف عین

    ترس ہم پر اگر وہ کھا رہے ہیں

    اب تو مجھے کوئی غلطی نظر نہیں آ رہی، سوائے اس کے کہ مسکانا مسکرانا کی وہ شکل ہے جو ہندی میں مخصوص ہے، اردو میں کچھ کھٹکا۔ اصل مراسلے میں ہی ترس والی ترمیم نہیں کی جاتی تو بہتر تھا اب تو کنفیوژن بڑھ گیا ہے کہ ر ساکن استعمال کیا گیا ہے یا مفتوح! یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس کی تقطیع سے واقف نہ ہوں
  7. الف عین

    تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے-----براءے اصلاح

    پہلے دونوں اشعار درست ہیں کوئی بھی میرے خواب میں تیرے سوا نہ آ سکا ہالانکہ میرے خواب پر میرا نہ اختیار ہے --------------- خواب دہرایا جا رہا ہے حالانکہ اس پہ کچھ مرا بس ہے نہ اختیار ہے ایک تجویز تیرے سوا وہ کون ہے میرا کبھی جو بن سکے تیرے بنا یہ زندگی میری تو سوگوار ہے -------------- دوسرا...
  8. الف عین

    براہ اصلاح

    بھئی اتنی عروض تو مجھے بھی نہیں آتی علت کے علاوہ دوسرے حروف کو آخر میں اا طرح گرایا جا سکتا ہے کہ کچھ بحور میں آخر میں ایک ساکن حرف کے اضافے کی اجازت ہوتی ہے، جیسے فاعلن کی بجائے فاعلان/فاعلات، فع کی جگہ فعل، مفاعلن کی جگہ مفاعلات، جیسا کہ آرزو کی اس غزل میں ہے جس کی مثال دی ہے۔ نصرت کی نہیں...
  9. الف عین

    قطعہ برائے اصلاح

    اپنے پیروں پر بھی بچہ کھڑا ہو جاتا ہے بچہ کی ہ گرنا جائز سہی لیکن 'چکڑا' تقطیع ہونا اچھا نہیں لگتا بچہ اپنے پیروں پر بھی کھڑا.... بہتر ہے نہ جانے مجھے 'بکھڑا ' تقطیع بہتر لگتی ہے
  10. الف عین

    براہ اصلاح

    حروف علت ا، و ی ے آخر میں آنے پر ان کو تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا، ح کیا جائے گا
  11. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    اب درست ہو گئے اشعار
  12. الف عین

    براہ اصلاح

    بدر کا تلفظ پہلے درست تھا، مسئلہ یہ تھا کہ طرح کی ح گر گئی تھی الفاظ بدل کر کوشش کریں نصرت کی جگہ مدد، طرح کی جگہ صورت یا مانند جیسے بدر کی صورت اتر آئیں مدد کو یہ پھر ارشاد... بہتر ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    پہلا مصرعہ بہتر ہو گیا دوسرے مصرعے کو کھینچ لی تم نے، زمیں... کر دو تو بہتر ہے مرے گا یا جلے گا دونوں ایک ہی بات ہے
  14. الف عین

    تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے-----براءے اصلاح

    اب بہتری محسوس ہو رہی ہے تیرا فقط خیال ہی میرے لئے بہار ہے آؤ کبھی تو سامنے تیرا ہی انتظار ہے ----------یا مجھ سے کبھی تو آ کے مل تیرا ہی انتظار ہے -------------- دوسرا متبادل بہتر ہے، پہلے میں 'آؤ' کی وجہ سے شتر گربہ ہے تیرے لئے جو پیار ہے دل میں رہے گا یہ سدا تیرے بنا اداس ہوں آنکھ بھی...
  15. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    چاند سے بھی خوبصورت میں بناؤں گا تمہیں چاند اپنا چھوڑ کر تم پر مرے گا آسمان ... آسمان چاند پر مرتا ہے؟ عجیب شعر لگا ہم ستونوں کے اگر پیروں تلے سے یہ زمین تم نے کھینچی تو زمیں پر آ لگے گا آسمان ... ہم ستونوں سے فاعل محض ہم لگتا ہے جب کہ کہنا یہ تھا کہ ہم وہ ستون ہیں جن پر آسمان ٹھہرا ہے، شعر...
  16. الف عین

    اصلاح نظم

    پہلی بات، یہ نظم نہیں، غزل ہے۔ پہلی کاوش کے طور پر کافی حد تک موزوں ہے، لیکن کئی مصرعے بحر سے خارج ہیں۔ لیکن کہیں ردیف کی گرامر کی غلطی ہے، اکثر اشعار کے دونوں مصرعوں میں آپسی ربط نہیں، بلکہ اکثر مصرعے ہی بے معنی ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ مطالعہ مزہد کریں اور کوشش جاری رکھیں۔ اسے میں یا کوئی اور...
  17. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست قوافی کے لیے آخری متحرک حرف کے بعد کے حروف یکساں ہونے ضروری ہیں۔ یا تو سارے قوافی رے والے ہوں یا سارے ڑے پر ختم ہونے والے ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ ڑے والے قوافی کو بھی رے والوں سے بدلا جائے۔ یا ان کو محض ے والا کر دیا جائے.. جمے، لکھے، سنے، کہے، لے وغیرہ
  18. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    درست ہے مطلع پچھلے خیال کو بھی محفوظ رکھو، کبھی بہتر استعمال میں آ سکتا ہے
  19. الف عین

    برائے اصلاح

    بلکنے، چمکنے، دھڑکنے، سرکنے وغیرہ درست قوافی ہیں سسکنے کے
Top