نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کسی مستِ شباب کی دنیا - امجد حیدر آبادی

    غزل (امجد حیدر آبادی) کسی مستِ شباب کی دنیا ایسی ہے، جیسے خواب کی دنیا ہائے ظالم کی مست آنکھوں میں بس رہی ہے شراب کی دنیا حُسن اس شوخ کا، خدا کی پناہ ہے مہ و آفتاب کی دنیا چین دم بھر، اسے نصیب نہیں دل ہے، یا انقلاب کی دنیا؟ محو غفلت ہے کائنات تمام ساری دنیا ہے خواب کی دنیا موت میں دو...
  2. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی - حفیظ ہوشیار پوری

    غزل (حفیظ ہوشیار پوری) غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی لب اُن کے تبسّم ریز رہیں، آنکھیں میری پُرنم ہی سہی گر جذبِ عشق سلامت ہے ، یہ فرق بھی مٹنے والا ہے وہ حُسن کی اک دنیا ہی سہی، میں حیرت کا عالم ہی سہی ان مست نگاہوں کے آگے، پینے کا ذکر نہ کر ساقی میخانہ ترا جنّت ہی سہی،...
  3. کاشفی

    مصطفیٰ زیدی غزل ۔ ہر طرف انبساط ہے اے دل ۔ مصطفیٰ زیدی

    بہت ہی عمدہ انتخاب ہے محمد احمد بھائی۔۔۔ بہت خوب!
  4. کاشفی

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محترم ۔ خوش رہیئے۔۔
  5. کاشفی

    انور شعور غزل ۔ سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا ۔ انور شعور

    بہت ہی خوب انتخاب ہے محمد احمد بھائی۔
  6. کاشفی

    میں ترا ہجر کیسے بنوں ۔ ابرار احمد

    بہت ہی عمدہ جناب!
  7. کاشفی

    بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے- حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے ہمارا کوئی حق ہے یا نہیں ہے؟ ضرورت تھی کہ تو غافل نہ ہوتا مگر تقدیر سے ایسا نہیں ہے مٹانا ہے تو کوتاہی نہ فرما سِسکتا چھوڑنا اچھا نہیں ہے کسی کو تیری نسبت کیا بتا دوں یہ دیکھا ہے کہ کچھ دیکھا نہیں ہے کبھی اپنے سلوکوں پر نظر کر شکایت ہو...
  8. کاشفی

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! بہت شکریہ فرخ منظور صاحب!
  9. کاشفی

    جانتے ہیں، قادرِ ہر کار تم، بیکار ہم - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ عائشہ عزیز صاحبہ بہت شکریہ فرخ منظور صاحب
  10. کاشفی

    حُسنِ غارتگر - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ فرخ منظور صاحب!
  11. کاشفی

    فراق ایک آنکھوں کا اثر، تاثیر اک رفتار کی- فراق گورکھ پوری

    نوائے فراق (فراق گورکھ پوری) ایک آنکھوں کا اثر، تاثیر اک رفتار کی موجِ مَے کا لڑکھڑانا، بے خودی میخوار کی پارسا کی پارسائی، مستیاں مَےخوار کی وہ فقط حسرت، یہ شان و کیفیت دیدار کی کنجِ زنداں میں تو مجھ کو وسعت صحرا کی یاد حسرتیں صحرا میں زنداں کے درودیوار کی بن چکے ہیں وصل و فرقت اک پیامِ...
  12. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری تو وہ عہدِ رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھلا سکوں- حفیظ ہوشیار پوری

    غزل (حفیظ ہوشیار پوری) تو وہ عہدِ رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھلا سکوں میں وہ بھولا بسرا سا خواب ہوں کہ کسی کو یاد نہ آسکوں کوئی پوچھتا ہے جو حالِ دل تو میں سوچتا ہوں کہ کیا کہوں ترا احترام ہے اس قدر کہ زبان تک نہ ہلا سکوں یہ تری جفا کی ہے اتنہا کہ تو مجھ کو یاد نہ کر سکے یہ مری وفا...
Top