غزل
(عدم)
اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے
جو ہستیء یزداں کو بھی افسانہ بنادے
ہے عشرتِ دیوانگیء عشق عجب چیز
دیوانہ بنا دے، مجھے دیوانہ بنا دے
ہر فکرِ جگر سوز کی بنیاد خرد ہے
اے دوست مجھے عقل سے بیگانہ بنا دے
گمنام ہوں، ناپید ہوں، گویا کہ نہیں ہوں
کیا دیکھ رہا ہے؟ مجھے افسانہ بنادے...