نتائج تلاش

  1. کاشفی

    دیئے گئے لفظ پر شاعری - دوسرا دور

    شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے دل ٹوٹے آواز نہ آئے (حفیظ میرٹھی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غل
  2. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (4)

    اب خدا شاہد ہے کوئی رازداں ملتا نہیں مجھ سے دیوانے کی باتیں کون دیوانہ سُنے! (مسعود شاہد)
  3. کاشفی

    نہیں دیکھے گئے وہ بھی نگاہِ برقِ مضطر سے- لکشمی نرائن جوہر بدایونی

    غزل (لکشمی نرائن جوہر بدایونی) نہیں دیکھے گئے وہ بھی نگاہِ برقِ مضطر سے جو تنکے بچ رہےتھے آشیاں میں بادِ صرصر سے ارے صیاد مجبوری اسی کا نام ہے شاید نشیمن جل رہا ہے دیکھتے ہیں ہم ترے گھر سے بہارِ صحن گلشن ہے اگر اپنے مقدر میں قفس کی تیلیاں سرسبز ہوں گی دیدہء تر سے ہمارے دل کے زخموں کی یہ...
  4. کاشفی

    سراج الدین ظفر ہم آہوان ِ شب کا بھرم کھولتے رہے ۔ سراج الدین ظفر

    لاجواب کلام پیش کیا ہے فرخ منظور صاحب آپ نے۔۔۔بہت ہی خوب۔
  5. کاشفی

    اب ہم کو خوفِ قیدِ زماں و مکاں کہاں - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محمد احمد بھائی! بہت شکریہ محمد وارث صاحب!
  6. کاشفی

    تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں- کیفی اعظمی

    شکریہ محمد احمد بھائی! شکریہ محمد وارث صاحب! شکریہ الف عین صاحب!
  7. کاشفی

    کسی مستِ شباب کی دنیا - امجد حیدر آبادی

    پسندیدگی کے لیئے آپ کا بھی بیحد شکریہ محمد وارث صاحب!
  8. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی - حفیظ ہوشیار پوری

    شکریہ الف عین صاحب! جی بالکل۔ اگر میرے لیئے کوئی حکم ہے تو بتائیں۔
  9. کاشفی

    عدم اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے- عدم

    شکریہ فرخ منظور صاحب! شکریہ محمد وارث صاحب!
  10. کاشفی

    عدم سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا - عدم

    جی بالکل، اب شکوے ختم۔ خوش رہیئے۔۔ہنستے مسکراتے۔
  11. کاشفی

    سرمستیوں میں روحِ جوانی کچل گئی!- اختر انصاری دہلوی

    غزل (اختر انصاری دہلوی) سرمستیوں میں روحِ جوانی کچل گئی! یعنی بہار، سوزِ بہاریں سے جل گئی کیا یاد کر کےعشرتِ رفتہ کو رویئے اک لہر تھی جو ناچتی گاتی نکل گئی وہ اک لمحہ جس میں ہوئی تھی نظر دوچار اُس ایک لمحے میں مری دنیا بدل گئی تھی نکہتوں میں لپٹی ہوئی ایک یاد، آہ موجِ نسیم آج کلیجہ مسل...
  12. کاشفی

    جو دل میں شعر آئے وہ لکھ دیجیے -- نیا سلسلہ

    ابتدا وہ تھی کہ تھا جینا محبت میں محال انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہوگیا (جگر مُراد آبادی)
  13. کاشفی

    عدم اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے- عدم

    غزل (عدم) اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے جو ہستیء یزداں کو بھی افسانہ بنادے ہے عشرتِ دیوانگیء عشق عجب چیز دیوانہ بنا دے، مجھے دیوانہ بنا دے ہر فکرِ جگر سوز کی بنیاد خرد ہے اے دوست مجھے عقل سے بیگانہ بنا دے گمنام ہوں، ناپید ہوں، گویا کہ نہیں ہوں کیا دیکھ رہا ہے؟ مجھے افسانہ بنادے...
  14. کاشفی

    عدم رہرو اور رہزن - سید عبدالحمید عدم

    آپ کا بھی بیحد شکریہ محمد وارث صاحب!
  15. کاشفی

    عدم گو تری محفل سے او بیدادگر جاتا ہوں میں- عدم

    شکریہ صائمہ شاہ صاحبہ! شکریہ ساہ خان صاحبہ! شکریہ زحال مرزا صاحب! شکریہ محمد وارث صاحب!
  16. کاشفی

    عدم سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا - عدم

    مندرجہ بالا غزل کچھ اس طرح سےبھی ہے۔۔۔ غزل (عدم) سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا مرنے کا ہے موسم یہی، جی بھر کے مروں گا آغاز طلب ہے مرا افسانہء ہستی بنیاد تِری آنکھ کی مستی پہ دھروں‌گا حالات مجھے خوابِ پریشان بنالیں حالات کو کچھ میں بھی پریشان کروں گا تو پیکرِ انساں میں، مرے...
Top