دیہات کی رات
(فاخر ہریانوی- 1901ء)
چپکے چپکے گیت خاموشی کے گاتی ہے فضا
دیکھ کر تاروں کی جانب مسکراتی ہے فضا
اوڑھ کر اپنے تنِ نازک پہ چادر چاندنی
بام گردوں سے اُترتی ہے زمیں پر چاندنی
مسجد و محراب سے شورِ اذاں اُٹھتا نہیں
سرد اور خاموش چولہوں سے دھواں اُٹھتا نہیں
لیٹ جاتی ہےگھروں میں...