نتائج تلاش

  1. کاشفی

    احمد ندیم قاسمی کیا جُرم ہے شوقِ خود نمائی؟

    عمدہ انتخاب ۔ بہت خوب!
  2. کاشفی

    نذر میر۔ ابو الحسنات حقی

    عمدہ بہت خوب!
  3. کاشفی

    چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں- حکیم آزاد انصاری

    شکریہ نایاب بھائی۔ درست فرمایا جناب نے۔۔خوش رہیئے۔۔
  4. کاشفی

    حُسنِ غارتگر - حکیم آزاد انصاری

    شکریہ بہت بہت ۔ خوش رہیئے۔۔۔
  5. کاشفی

    چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں- حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں گھٹاہے، پھواریں ہیں، میخواریاں ہیں ستم کوشیاں ہیں، جفاکاریاں ہیں یہ کس کے مٹانے کی تیاریاں ہیں بتو! تم خدا جانے کیسے خدا ہو کہ ستاریاں ہیں، نہ غفاریاں ہیں جو اب کوئی پرساں نہیں ہے تو کیا غم غمِ دوست ہے اور غم خواریاں ہیں اگر تم...
  6. کاشفی

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    فرخ منظور صاحب، فرحت کیانی صاحبہ، ابوشامل صاحب اور محمد امین بھائی ، آپ تمام محفلین کا بیحد شکریہ۔
  7. کاشفی

    جانتے ہیں، قادرِ ہر کار تم، بیکار ہم - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! بہت شکریہ حسیب نزیر گل صاحب!
  8. کاشفی

    حُسنِ غارتگر - حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! بہت شکریہ حسیب نزیر گل صاحب!
  9. کاشفی

    اب ہم کو خوفِ قیدِ زماں و مکاں کہاں - حکیم آزاد انصاری

    شکریہ سارہ خان صاحبہ! شکریہ حسیب نزیر گل صاحب!
  10. کاشفی

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    شکریہ محترمہ! خوش رہیئے۔۔
  11. کاشفی

    بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے- حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب!
  12. کاشفی

    بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے- حکیم آزاد انصاری

    بہت شکریہ بھائی! جیتے رہیں۔
  13. کاشفی

    اردو رباعیات

    بیتابیء عشق ہے باقی ساقی شعلے سے بھڑک رہے ہیں ساقی ساقی پہلو میں نگار ہے نہ ساغر میں شراب جیتا ہوں، تو ،ہے یہ اتفاقی ساقی (شاعر: م م ن یعنی مجھے معلوم نہیں :) )
  14. کاشفی

    گناہ لذّت آشنا، ترانہ زا رباب ہے - سروش بھوپالی

    غزل (سروش بھوپالی) گناہ لذّت آشنا، ترانہ زا رباب ہے ابھی فضا میں کیف ہے، ابھی ترا شباب ہے نہ داغِ قلب درد زار ہے، نہ آفتاب ہے کسی کے بحر ِ حسن کا یہ مشتعل حباب ہے تجلّیوں کی شوخیاں سمٹ کے حسن بن گئیں ہزار سادگی سہی، شباب پھر شباب ہے وہی حیاتِ مضطرب، وہی وفورِ بیخودی! مجھے نشاط جلوہ کی نہ...
Top