غزل
(سروش بھوپالی)
گناہ لذّت آشنا، ترانہ زا رباب ہے
ابھی فضا میں کیف ہے، ابھی ترا شباب ہے
نہ داغِ قلب درد زار ہے، نہ آفتاب ہے
کسی کے بحر ِ حسن کا یہ مشتعل حباب ہے
تجلّیوں کی شوخیاں سمٹ کے حسن بن گئیں
ہزار سادگی سہی، شباب پھر شباب ہے
وہی حیاتِ مضطرب، وہی وفورِ بیخودی!
مجھے نشاط جلوہ کی نہ...