غزل
(رسا)
کرتا ہوں برقِ قہر کا خوگر ،جگر کو میں
چھُپ چھُپ کے دیکھتا ہوں ،کسی کی نظر کو میں
کردے اگر گداز اسے ،گرمیء سجود
کرلوں جبیں میں جذب ، ترے سنگِ در کو میں
اُن کو یہ ڈر، نہ آئے کہیں آستاں پہ حرف
مجھ کو یہ ضد کہ رکھ کے اُٹھاؤں نہ سر کو میں
اللہ! اپنی نعمتِ اعظمٰی کو پھیر لے
ذوقِ نظر...