نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    دو معمولی سے اسقام محسوس ہوتے ہیں نفرت و بغض کا پھیلا ہے اندھیرا ہر سو بجھ گئے دیپ محبت کے، منور نہ رہے .. پھیلا ہے کی بجائے 'پھیل گیا' دوسرے مصرعے کے صیغہ سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بجھ گئے اور نہ رہے کے افعال سے مطابقت رکھتے ہوئے دوسری بات ۔ دائرہ کا قطر یا نصف قطر ہوتا Radius/ Diameter ہے، طول و...
  2. الف عین

    تہذیبِ نو سے چھن گیا کردار ہے انسان کا----برائے اصلاح

    تہذیب نو نے چھینا ہے کردار جو انسان کا ایسے ہی تو پورا ہوا ہے سب مشن شیطان کا چھینا ہے میں چھینا کے الف کا اسقاط اور 'ہی تو' میں ہی کی ی کے اسقاط کے علاوہ 'تو' مکمل طویل کھنچتا ہوا اچھا نہیں لگتا۔ مفہوم کے اعتبار سے کیا تہذیب یا کوئی بھی شے یا شخص انسان کا کردار چھین سکتا ہے؟ ہاں، کردار کی اچھی...
  3. الف عین

    برائے اصلاح

    یہ غزل کی شکل میں لگتی ہے لیکن ردیف قوافی کیا ہیں، یہ سمجھ میں نہیں اتا۔ اسے آزاد نظم بنا دیں تو شاید قبول کی جا سکے
  4. الف عین

    تہذیبِ نو سے چھن گیا کردار ہے انسان کا----برائے اصلاح

    عجز بیان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور بیانیہ کو نثر کے قریب کریں کردار ہے انسان کا کی سیدھی نثر 'انسان کا کردار ہے' ہوتی ہے.۔ یہ 'ہے' کا تعلق 'چھن گیا' سے ہے، یہ آپ کو ہر بار بتانا ہو گا۔ بس یہ مثال کافی ہے بیانیہ کے بارے میں
  5. الف عین

    محبّت سے ہوئی نفرت ہے تیری بے وفائی سے-----برائے اصلاح

    محبّت سے ہوئی نفرت کسی کی بے وفائی سے شکستہ دل ہوا میرا ہے یوں اس کی جدائی سے --------------- کوئی تبدیلی نہیں، میرے اعتراضات قائم ہیں کیا یکسر نظر انداز میری سب وفاؤں کو ارادہ تھا ہی جانے کا نہ ٹھہرا پھر دہائی سے -------- عجز بیان امادہ تھا وہ جانے پر میں کیسے روکتا اس کو نہیں تھا فائدہ کچھ...
  6. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    ریاض-ملت -شہ کا نکھار ہیں صدیق بہار-دین کی جان-بہار ہیں صدیق ... درست فقط نثار نہیں کی ہے دولت-دنیا حضور پر دل و جاں سے نثار ہیں صدیق ... درست کٹھن سفر میں رہے ہیں حضور کے ساتھ ساتھ رسول-ہاشمی کے یار-غار ہیں صدیق .. ساتھ ساتھ' مصرع کو بحر سے خارج کر دیتا ہے' ہمراہ' کیا جا سکتا ہے کیے ہیں بند...
  7. الف عین

    برائے اصلاح

    سنگ کو بے قیمت شے کے معنوں میں لینا سمجھ میں نہیں آتا حنا والے شعر کا متبادل مصرع کچھ سوجھ نہیں رہا سوائے واحد آنکھ کے، جس ہر میں خود اعتراض کرتا ہوں!
  8. الف عین

    اصلاح کی درخواست ہے

    عکس کی موج وہ جب دیکھے ہمیں صحرا میں تو باحسرت اسے ہی پرسشِ ما مانیں گے۔۔۔۔تویقیناً اسے پرسش حالِ ما مانیں گے؟ دوسرا مصرع اتنا اچھا تھا اسے کیوں بدل دیا۔ متبادل مصرع تو بحر سے خارج ہو گیا ہے۔ موجودہ پہلا مصرع یوں ہو تو عکس کی موج اٹھے، دیکھے ہمیں صحرا میں ہم اسے باعث.... باقی اشعار درست ہیں
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    بحر کم مستعمل سہی، لیکن استعمال کی جا سکتی ہے یہ خواب دیکھتی ہیں میری اکثر آنکھیں کہ بیٹھی ہے وہ حنا سے سجا کے ہاتھ ... دیکھتی اور میری کی ی یکے بعد دیگرے گرانا اچھا نہیں لگتا لیکن جائز ہے اور پھر دوسرے مصرعے میں بھی بیٹھی کی ی کے ساتھ بھی وہی عمل! 'آنکھیں' تو بہر حال اسے بحر سے خارج کر دیتا ہے،...
  10. الف عین

    محبّت سے ہوئی نفرت ہے تیری بے وفائی سے-----برائے اصلاح

    دیکھا، محض ایک دن. مزید غور کرنے سے بہتری محسوس ہوتی ہے یا نہیں ۔ بس یہی شکایت ہے کہ آپ غزل کے ساتھ وقت گزارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے! اگرچہ اب بھی بس دو تین مصرعوں میں ہی تبدیلی کی ہے ہوئی نفرت محبّت سے تمہاری بے وفائی سے شکستہ دل ہوا میرا تمہاری یوں جدائی سے ----------- مطلع اب بھی دو لخت...
  11. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    پہلا اور چھٹا مصرع بحر سے خارج ہے۔ مطلع میں یادگار کا قافیہ بھی عجیب لگتا ہے، کسی شخصیت کو یادگار کہنا ان کے اسلاف کی تاریخ کے سلسلے میں تو مستعمل ہیں جیسے کسی استاد شاعر کے انتقال کے بعد ان کے کسی شاگرد کو یادگارِ داغ یا یادگارِ سیماب کہنا، لیکن ہجرت کے سفر کے یادگار کے طور پر تو مجھے حضرت...
  12. الف عین

    اصلاح کی درخواست ہے

    اصلاح ہو چکی ہے، پھر کیوں دوبارہ پوسٹ کی گئی ہے دوسرے تھریڈ میں؟ یہاں بھی اس تھریڈ میں جن اشعار کو درست قرار دیا جا چکا ہو، ان کو پوسٹ کرنے کی ضرورت نہیں، صرف ترمیم شدہ اشعار پوسٹ کیا کریں مطلع کے اعتراضات پر دھیان نہیں دیا گیا آرزوؤں کے گہر جو پڑیں ماند اِنھیں ہم سینت کر سینے میں رکھنے کی سزا...
  13. الف عین

    برائے اصلاح منظوم ترجمہ

    اب درست ہو گیا ہے ترجمہ
  14. الف عین

    محبّت سے ہوئی نفرت ہے تیری بے وفائی سے-----برائے اصلاح

    اس غزل کو خود ہی دیکھیں، رہنمائی کے لیے کچھ باتیں : مطلع کی نثر بنا کر دیکھیں کہ کءا جملہ بنتا ہے، یہ درست ہے یا نہیں دوسرے اشعار میں شتر گربہ بھی ہے فاعل کی کمی بھی ہے الفاظ کی ترتیب سے بات واضح بھی ہو سکتی ہے
  15. الف عین

    گناہوں پر ندامت ہے مگر رغبت نہیں جاتی----برائے اصلاح

    'گو' کی واو کا اسقاط بالکل جائز ہے، اسی جگہ آپ بھی تو تین حرفی 'ہوں' لا رہے ہیں! یہ دوسری بات ہے کہ گو کی و کا اسقاط روانی کو متاثر کرتا ہے
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح : ہمیشہ آپ نے ہم کو رلایا

    ویسے شتر گربہ تو نہیں کہا جا سکتا مگر ہر شعر میں تو سے خطاب ہے لیکن مطلع میں آپ؟ اور محض مطلع کو ہی دیکھا جائے تو 'ہمیشہ اپ' ایک ہی مقام پر دونوں مصرعوں میں بھی اچھا نہیں لگتا۔ باقی اشعار درست ہیں
  17. الف عین

    سہہ ماہی اردو محفل جنوری تا مارچ ۲۰۲۰

    یہ اگلا شمارہ اپریل تا جون ہو گا نا! جنوری تا مارچ تو ترتیب پا چکا ہے، اور ان شاء اللہ جلد ہی آن لائن ہو جائے گا ۔ ابن سعید اسے اردو ویب ڈجٹل لائبریری میں فراہم کرنے کا نظم کر دیں، ورنہ میری برقی کتابیں اور لائبریری تو ہے ہی۔ دو ایک دن میں اسے فائنل کر دیتا ہوں
  18. الف عین

    ط سے طوطا یا ت سے توتا

    اصل ترکی میں یہ لفظ تغمہ ہی ہے، اردو میں آ کر تمغہ ہو گیا۔
  19. الف عین

    غزل برائے اصلاح : لڑ لڑ کے خود کو یوں چکنا چور کر دیا

    دونوں متبادل مطلعوں میں 'خود کو' دہرایا جا رہا ہے۔ اس لیے مجھے اپنا مجوزہ مصرع ہی بہتر لگ رہا ہے اتنے لگائے....
  20. الف عین

    گناہوں پر ندامت ہے مگر رغبت نہیں جاتی----برائے اصلاح

    توجہ اور کوشش سے بدل سکتی ہے بس عادت مگر انساں کی جو فطرت ہے وہ فطرت نہیں جاتی ..... فطرت دو بار استعمال کیا کانا اچھا نہیں لگتا، راحل کا مصرعہ بہتر ہے آپ ٹیگ کرنے میں اصلاح کی کوشش نہ کیا کریں، کسی محمّد کو آپ نے دو بار ٹیگ کر دیا ہے، ورنہ بھائی خلیل کے نام میں محمد بغیر تشدید کے ہے۔ خلیل...
Top