نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح: گزرے گا وقت ایسے سہانا حیات کا

    ٹھیک ہیں اشعار اگرچہ کوئی خاص بات نہیں۔ سہانا ہی لکھا جائے، سہانہ کی ضرورت نہیں
  2. الف عین

    غزل برائے اصلاح : کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں

    درست ہیں دونوں اشعار۔ میں نے مقطع پر یہ غور نہیں کیا تھا پہلے کہ صیغے کا شتر گربہ ہے، سبق واحد کے ساتھ جمع 'لگ جائیں' کے باعث۔ اب یہ سقم دور ہو گیا
  3. الف عین

    غزل برائے اصلاح : کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں

    ٹھیک ہو گئی غزل ہان عش عش کے تعلق سے کہیں بات ہوئی تھی، اس پر کچھ کہنا بھول گیا تھا پہلے۔ عموماً عش عش یعنی ع کے ساتھ ہی مقبول عام ہے
  4. الف عین

    برائے اصلاح

    قوافی واقعی درست نہیں ۔ کٹتے، لپٹتے، ہٹتے قوافی ہو سکتے ہیں یا لڑتے جھگڑتے، پڑتے۔ یعنی قوافی کے لیے ضروری ہے کہ مشترکہ حروف سے پہلے کا حرف متحرک ہو، ساکن نہیں ۔ جیسے پڑتے، لرتے میں 'ڑتے' مشترک حروف ہیں اور پَ اور لَ متحرک ھروف۔ کٹتے لپٹتے میں 'ٹتے' مشترکہ حروف اور ان سے پہلے کَ اور پَ متحرک، زبر...
  5. الف عین

    غزل برائے اصلاح : جب مصور کوئی تصویر بناتا ہی نہیں

    جب مُصوِّر کوئی تصویر بناتا ہی نہیں پھر یہ تصویر کا ڈر کیا ہے کہ جاتا ہی نہیں ... مطلع واضح نہیں ہوا ، تصویر کا دہرایا جانا بھی اچھا نہیں ہم سبھی لوگ جو اَطراف سے بند دائرہ ہیں ایسی تقدیر کوئی ہاتھ مٹاتا ہی نہیں .. بند دائرہ بحر میں نہیں، محض' بن دائرہ' آتا ہے۔ اگر مکمل آ بھی جائے تو تنافر ہو...
  6. الف عین

    برائے اصلاح

    مطلع میں ایطا کا عیب ہے یعنی کرم اور حرم قوافی مقرر ہو جاتے ہیں اور اس صورت میں تمام قوافی بھرم، کرم یعنی 'رم' والے ہوں گے جب کہ یہاں شاید محض م پر ختم ہونے والے قوافی کا نظم رکھنے کا ارادہ محسوس ہوتا ہے۔ مقسوم کرنا بھی درست فعل نہیں محسوس ہوتا دوسرے شعر میں 'پڑا' بھی کرخت لگتا ہے
  7. الف عین

    تصویر شامل کر کے چیک کی

    Tinypic.com وغیرہ کسی مفت سائٹ پر آپ لوڈ کر کے اس کا لنک یہاں شامل کریں تو سب لوگ دیکھ سکیں گے اسے
  8. الف عین

    خطرے میں انسان کی انسان سے ہی جان ہے ---براہے اصلاح

    یہ ویسی ہی غزل ہے جیسی آپ چھ آٹھ ماہ پہلے کہتے تھے! بس شتر گربہ نہیں ہے! یہ میں اکثر کہتا ہوں کہ مصرع نثر کے جتنا قریب ہو گا، اتنا ہی رواں ہو گا۔ ایک ہی مثال.. مملکت جو دی ہمین ہے..... اگر مملکت جو ہم کو دی ہے... کہیں تو اچھا نہیں لگتا۔ پھر حیرت ہے کہ یہ سامنے کا مصرعہ آپ کو نہیں سوجھا! کہاں...
  9. الف عین

    غزل بغرضِ اصلاح: پھر سے یادِ یار میں جگنو بلائے جائیں گے

    مطلع واضح نہیں واقعی ترکِ محبت کا ارادہ ترک کرتے ہیں ہم آج .. یہ بحر بھی منقسم ہے دو ٹکڑوں میں، اور پہلا ٹکڑا 'ارا' پر ختم ہو رہا ہے اور دوسرا 'دہ' سے شروع۔ یعنی لفظ ٹوٹ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ آخری فاعلن کو فاعلات میں بدلا جا سکتا ہے لیکن یہاں اس صورت میں اچھا نہیں لگتا۔ یہ بات جو محفل کی ہے...
  10. الف عین

    غزل برائے اصلاح : کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں

    میرے ہی ساتھ راحل بھی اسی غزل پر ہاتھ صاف کر رہے تھے! جیسا انہوں نے 'وہ استاد' کی بابت کہا ہے، وہی بات 'جن کے لیے شعر کہنے' پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔ یعنی دوسرے مصرعے میں 'وہ' آنا چاہیے۔ 'جن' بطور فاعل قبول نہیں کیا جا سکتا۔
  11. الف عین

    غزل برائے اصلاح : کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں

    کیوں نہ تہذیب کے اسباق ٹھکانے لگ جائیں دانہ کوے جو کبوتر کا بھی کھانے لگ جائیں .... ویسے تو درست ہے لیکن 'کا بھی' کبھی تقطیع ہوتا ہے اور سننے میں کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہے دانہ کوے کا کبوتر بھی جو.... بہتر ہو گا خود کشی بھی نہ کرے اور کرے کیا استاد جس کے شاگرد اسے آنکھیں دکھانے لگ جائیں ...
  12. الف عین

    نظم : بچوں کی تربیت برائے اصلاح

    درست ہو گئی ہے نظم
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح : ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں

    ہر شعر مجھے دو لخت لگ رہا ہے یعنی دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے
  14. الف عین

    برائے اصلاح

    میں نے آخری مصرعے کے کلیدی لفظ شاید کی وجہ سے ردیف میں شاید رکھنے کی کوشش کی تھی، شاید خاکسار نے خاکساری کی وجہ سے خود کوشش نہیں کی! بہر حال بغیر شاید کے بھی یہ قطعہ درست ہو گیا ہے طوقِ ایازی کی ترکیب میں جدت سہی لیکن بحر میں بھی غلامی ہی آتا تھا اس لیے بدل دیا تھا
  15. الف عین

    نظم : بچوں کی تربیت برائے اصلاح

    ماشاء اللہ راحل نے اچھی اصلاح کی ہے، مگر ایک تلفظ میں وہ چوک گئے! مدھم میں دھ پر فتحہ اور تشدید ہے، یہ بر وزن فعلن ہے، 'مدم' بر وزن فعو نہیں.۔
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح : آج وہ آ کر ملا ہم رو پڑے

    درد اک دل میں جگا ہم رو پڑے یہاں 'جاگا' کا محل ہے۔ آپ خود جاگتے ہیں اور دوسروں کو جگاتے ہیں۔ دل کا درد بھی از خود جاگ سکتا ہے یا کوئی اور شے، جیسے محبوب کی یاد، اسے جگا سکتی ہے۔ ہندی شاعری میں اس قسم کا استعمال ہوتا ہے، اردو میں نہیں۔ ڈراما کا بھی درست انگریزی تلفظ تو ڈ اور ر مل کر ایک حرف کی...
  17. الف عین

    مبارکباد خلوص اور محبت بھرے پیغام محفلین کے نام

    بہت شکریہ عزیزو، تمہارے منہ میں گھی شکر! اتنی اچھی دعاؤں کے لیے
  18. الف عین

    اضافت کی صورت میں اسم واحد ہوگا تو فعل کا صیغہ بھی واحد ہونا ضروری ہے ۔ روز کی جمع کیا ہو گی؟...

    اضافت کی صورت میں اسم واحد ہوگا تو فعل کا صیغہ بھی واحد ہونا ضروری ہے ۔ روز کی جمع کیا ہو گی؟ ایامِ عذاب یا عزا استعمال کیا جانا چاہیے
  19. الف عین

    برائے اصلاح

    اس صورت میں تو 'کیوں' درست طریقے سے وزن میں نہیں آتا کیوں بھلا چارہ گر سے ہم الجھا کریں کیا جا سکتا ہے تو یہ مصرع شاید تم کو بھی قبول ہو۔ 'الجھا' کے الف کا وصال جائز ہے
Top