باخدا خبر نہ دار م، چوں نماز می گزارم
کہ رکوع شد تمامے ، کہ امام شد فلانے
(سیدی مولائے روم)
بخدا خبر نہیں ہے جو نماز میں ہوں پڑھتا
کہ رکوع کب ہوا ہے ، کہ امام کون ساہے
(وارث صاحب اب چونکہ میں فارسی سے نابلد ہوں سو صحیح ترجمہ اس میں تدوین کردیں) پیشگی شکریہ
’’ غزل ‘‘
لاَ موجودُ ُ غَیر الحق
غیرِ حق زق زق بق بق
چشمِ حق ہے سوئے حق
دیکھ ! مقیّد میں مطلق
ایک دمک سے مکھڑے کی
ہوش ہیں غائب رنگ ہیں فق
دل کا بیڑا پار اترا
بے کشتی و بے زورق
محض جنوں کی بے ربطی
کیا دنیا کا نظم و نسق
مہر و مہ، عرش و کرسی
مصحفِ دل کاایک ورق
حسن کی...
’’ غزل ‘‘
قبلہ و کعبہِ الم ہیں ہم
ہاں الف لام میم ، ہم ہیں ہم
ہم پہ قرآن ِ عشق اترا ہے
مرسلانِ خدائے غم ہیں ہم
اور اللہ کا کرم کیا ہے
آپ اللہ کا کرم ہیں ہم
آپ بت خانہِ صفات اپنے
جلوہِ ذات کا حرم ہیں ہم
کچھ زیادہ نہ کچھ کسی سے کم
دور ، از فکرِ بیش وکم ہیں ہم
تخت ہے دہر، ہم...
’’ غزل ‘‘
وہ ماہِ طلعت و زہرہ جبین کون ہے ، تم ہو !
ز فرق تا بہ قدم نازنین کون ہے ، تم ہو !
متاعِ قلب و نظر کی امین کون ہے ، تم ہو !
تمام حسن ، سراپا حسین کون ہے ، تم ہو !
نمودِ لالہ و گل میں جو مسکراتا ہے
وہ گل نشین کون وہ غنچہ نشین کون ہے ، تم ہو !
سجودِ کعبہِ ہستی ہیں کس کے...
امِ ولید محفل میں خوش آمدید ، اک عر صے بعد محفل میں آئی ہیں امید ہے آپ کی حاضری تواتر سے رہے گی، باقی باسم صاحب فرما ہی چکے ، اب ہم کیا کہیں ۔کہ زباں خموش ہے ۔
نہ صاحب کہاں جاسکے ، ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ پروگرام منسوخ کیا گیا ، توثیق اس بات سے ہوتی ہے کسی بھی زرائع سے پروگرام کا منعقد ہونا ثابت نہیں ہوا ، اسی دن (گزشتہ کل) پروفیسر جاذب قریشی کی کتاب کی تقریبِ اجراء بھی تھی صادقین لان نیپا چورنگی پر ، وہ بھی منسوخ کی گئی ہے آئندہ کی تاریخ کا اعلان...
واہ صاحب اچھا سوال کیا ہے ، مہوش بہن بھی ناں ۔ ایویں قسم کی باتیں لے آتی ہیں ، پورے فورم میں دو ایک ظالمان کے حمایتی ہیں ، یہ ان کا نزلہ بھی ہم پر گراتی ہیں ، طالبان طالبان اور طالبان ارے کوئی اور موضوع چن لیں ، ہمارا تو دماغ پک گیا ہے سن سن پڑھ پڑ ھ کر ۔ لگتا ہے مہوش بہن کو طالبان فوبیا ہوگیا...
بہت بہت شکریہ جناب ، یہ کلام رقصِ بسمل میں شامل ہے اور اس البم کا ٹائٹل ڈیزائن کرنے کا اعزاز ہمیں حاصل ہے ، ایک درجن اعزازی سی ڈی ہمیں دی گئیں تھیں د و ایک بچ گئی ہیں ، کس کو چاہیے ۔؟
ک کک ک کیا مطلب کیا ہمارے بالوں میں آگ لگ گئی ہے ۔۔ اماں جاؤ یار کاہے کو ڈراتے ہو۔ کوئی دھواںوھواں نہیں اٹھ رہا۔ بلکہ ہمارے شعر کے مصداق:
مغل میں آگیا شاید جنوں کی آخری حد پر
جہاں جاتا ہوں ہنگامہ اسی محفل سے اٹھتا ہے
یہ دیکھیے انہوں اپنے مقام میں بھی پاکستان لکھا ہے ۔ یہ طنز ہی لگ رہا ہے ۔،
ہاں اس معاملے راجہ صاحب ( اس وقت آن لائن ہیں )سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
( میں نے تو سوال داغ دیا ہے ، دیکھیے کیا جواب آتا ہے )
صاحب طنز کیا گیا ہوگا ، وگرنہ اس محفل میں ابھی تک ایسا کوئی مائی کا لعل آیا نہیں جو اپنی حدود سے تجاوز کرجائے ۔ان صاحب سے استفسار کیا جاسکتا ہے ، ممکن ہے انہیں کوئی صدمہ ہو