دراصل ایچ اے خان صاحب "بڑے بے ادب" ہیں سو وہ "سزا" سے گھبراتے نہیں ہیں۔ اور اکثر و بیشتر کسی نہ کسی محفلین کے زیرِ عتاب ہوتے ہیں۔ ایسی جرآتِ رندانہ ہر کسی میں نہیں ہوتی۔
حذر! اے چیرہ دستاں سخت ہیں زیدی کی تعزیریں :) :) :)
مسلمان کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ قرانِ حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہونا چاہیے اور اُس کی ہر آن اتّباعِ سنتِ رسول سے عبارت ہونا چاہیے۔ حکیم محمد سعید
جو شخص دن میں دس لطیفے پڑھے گا اور ہر لطیفہ چھ بار پڑھے گا اور ہر بار (با اعتبارِ ارسال کنندہ) تہہِ دل سے ہنسے گا بھی۔ وہ بھلا سنجیدہ کیسے ہو سکتاہے۔ :) :) :)
ویسے اب سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر وہی لطیفہ دو دن تک گھومتا رہتا ہے۔ اتنا کہ بندہ بے زار ہو جاتا ہے۔
رہی ہماری ٹائم لائن تو وہاں لطیفے شئر کرنے والے ہی نظر نہیں آتے امتیازِ تذکیر و تانیث تو بعد کی بات ہے۔ ہمیں تو جب کبھی اچھے لطیفے پڑھنے کا شوق چراتا ہے تو محفل ہی کا منہ دیکھتے ہیں۔ :) :) :)