ہماری صلاح حاضر ہے
یہ دل ٹھہرا ہوا موجِ صبا میں
ازل سے درد شامل ہے وفا میں
رکھے گا کوئی کیسے دل پہ مرہم
اثر ہی جب نہ ہو کوئی دوا میں
کسی سے کیا کرے امید ساگر
کوئی راضی نہ ہو جس کی رضا میں
بتا تو ہی وہ تجھ کو پائے کیونکر
جسے تو نہ ملا اُس کی دعا میں
مگر خدارا ہم سے ان اشعار کے معانی مت پوچھیے۔