حُسن اور عشق
جس طرح ڈوبتی ہے
نورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحر
مہِ تاباں کی وہ سیمیں کشتی
جیسے مفقودِ خبر
چاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنول
جلوہء طور میں ضُو دینے کو آجائے ہے جیسے یدِ بیضائے کلِیم
موجہء نکہتِ گلزار میں غنچے کی شمیم
ڈوبتا جائے ترے سیلِ محبت میں یونہی دل میرا
تیرا ہمزاد...