کتابخانہ عمومی حضرت مرعشی نجفی در حال حاضر با گنجینہ ای بیش از بیست و پنجھزار مجلد کتاب خطی نفیس منحصر بفرد و بیش از چھار صد ھزار مجلد کتاب چاپی عربی و فارسی و ترکی و سایر زبانھا و بیش از سہ ھزار حلقہ میکرو فیلم و تصویر تھیہ شدہ از نسخہ ھای خطی موجود در کتابخانہ ھای عمومی و خصوصی داخل و خارج از...
سلام
پہلے سمجھو ذرا خدا کیا ہے
پھر سمجھنا کہ کربلا کیا ہے
غم کا درماں ہے خود غمِ شبیر
غمِ شبیر کی دوا کیا ہے
چل رہا ہوں رہِ حسینی پر
کیا خبر مرضی خدا کیا ہے
چین گہوارے میں نہیں دم بھر
دلِ اصغر کا حوصلہ کیا ہے
دوشِ احمد سے خاکِ مقتل تک
ابتدا کیا تھی انتہا کیا ہے
اے صبا اب وظیفہ لب شوق
ذکرِ...
آنکھیں ہی سیربین ہیں آنکھیں ہی جامِ جم
محتاج ان کے زیست میں ہیں ہر قدم پہ ہم
وہ راستہ ہو دیر کا، یا جادہ حرم
آنکھیں نہ ہوں تو ٹھوکریں کھائیں بہر قدم
صحرا میں پھر کشش ہے نہ کچھ بوستاں میں ہے
آنکھیں نہ ہوں تو ہیچ ہے جو کچھ جہاں میں ہے
دیکھا کیے یہ حال مگر تھا اک انتظار
آخر حِرا میں آئی نظر شانِ کردگار
رنگِ زمانہ دیکھ کے بڑھتا جو اضطرار
غارِ حرا میں ملتا تھا دل کو ذرا قرار
حُکمِ خُدا سے پیک مشیت زمیں پہ آئے
جبریل لے کے خلعت بعثت وہیں پہ آئے
سارے جہاں کو فکرِ بلندی ہے ساقیا
ہر ذہن میں عروج پسندی ہے ساقیا
کیوں پست میری حوصلہ مندی ہے ساقیا
آخر خُدا نے تابِ سُخن دی ہے ساقیا
ہاں طائرِ خیال کو پَر تولنے بھی دے
کب تک رہوں خموش مجھے بولنے بھی دے
بے جام و بادہ نقش و نگارِ خیال کیا
بے رنگیوں میں آئے ادائے جمال کیا
ساقی جو مہرباں نہیں پھر لطفِ حال کیا
پاؤں نہ بے طلب تو کسی سے سوال کیا
لب تشنہ ہوں تو سینکڑوں مضمون رہ گئے
جو ولولے تھے ہو کے وہ سب خون رہ گئے
آنکھوں سے خیر و شر کی فضا دیکھتے رہیں
ہنگامہ ہائے امن و وِغا دیکھتے رہیں
کس رُخ پہ چل رہی ہے ہوا دیکھتے رہیں
ان کھڑکیوں سے ارض و سما دیکھتے رہیں
کرنے کو امتیاز صواب و گناہ کا
پھیلا ہے کائنات میں دامن نگاہ کا
آنکھیں عطائے خاص ہیں پروردگار کی
تصویر دیکھتے ہیں خزاں کی بہار کی
کرتے ہیں سیر دشت کی اور لالہ زار کی
اُمید اُنھیں سے رکھتے ہیں دیدارِ یار کی
ساغر کے منتظر ہیں نہ جامِ سفال کے
پیتے ہیں ان سے گھونٹ شرابِ جمال کے
آنکھیں اسی لیے ہوئیں انسان کو عطا
روتے رہیں بہ یادِ شہنشاہِ کربلا
سینوں سے ہاتھ پلکوں سے آنسو نہ ہوں جُدا
مل جائے سلسبیل سے آنکھوں کا سلسلہ
ماتم میں اہلِ بیت کے یہ خوں چکاں رہیں
آنکھیں رہیں تو آنکھوں سے آنسو رواں رہیں
آنسو نہیں ہیں بحرِ عزا کے گہر، ہیں یہ
باغِ ولائے آلِ نبی کے ثمر، ہیں یہ
ہدیہ برائے سیدِ عالی نظر، ہیں یہ
قطرے نہیں ہیں پانی کے کحل البصر، ہیں یہ
دیتے ہیں یہ سکون ہر اک بیقرار کو
پل بھر میں صاف کرتے ہیں دل کے غبار کو
قُدسی لگا سکیں گے کچھ ان آنسوؤں کا بھاؤ
رضوانِ خُلد جانتا ہے ان کا رکھ رکھاؤ
حوروں کو اشتیاق ہے کہتی ہیں لاؤ لاؤ
ان موتیوں سے خُلد کے ایوان کو سجاؤ
ان کا کوئی جواب نہیں زیب و زین میں
آنکھوں تک آئے ہیں یہ عزائے حُسین میں
آنسو بہا کے ذکر شہ بحر و بَر کروں
دُنیا کے ضبطِ درد کو زیر و زَبر کروں
خونِ جگر سے بزم میں پلکوں کو تَر کروں
اشکوں کی بوند بوند کو رشکِ گہر کروں
ہر اشک خوں میں لعل و گُہر کی سی شان ہو
آنکھوں پہ جَوہری کی دکاں کا گمان ہو
احوالِ اشک و سلسلہ چشمِ تر لکھوں
افسانہ جراحتِ قلب و جگر لکھوں
ٹپکے قلم سے خون جو غم کا اثر لکھوں
آئے جو کچھ نظر تو حدیثِ نظر لکھوں
ڈالوں نظر زمیں پہ جو تابِ نظر ملے
دیکھوں فلک کو، دیدہ بینا اگر ملے
پہلے قلم اٹھاؤں تو حمدِ خُدا لکھوں
پھر سجدہ کر کے نعتِ شہِ مُصطفٰے لکھوں
دل کو لگا کے منقبتِ مرتضٰے لکھوں
آنسو بہا کے حالِ شہ کربلا لکھوں
ہاتھوں پہ دسترس ہے کلیجہ کو تھام لوں
آنکھوں کا ہے جو کام وہ آنکھوں سے کام لوں
تسلیم سب کو تھی مری فن کاری عظیم
اب ہنس رہے ہیں دیکھ کے مجھ کو مرے ندیم
تصویر کیا کھنچے کہ مرا حال ہے سقیم
نے دائرہ درست نہ خط کوئی مُستقیم
لفظوں سے صورتیں جو بنائیں بگڑ گئیں
قرطاس پر تمام، لکیریں سی پڑ گئیں