سعود بھائی، دیکھنے میں اتنے اچھے لگ رہے ہیں پکوڑے ۔ تصاویر دیکھ کے تو میرا بھی دل للچا گیا ہے بنانے کو۔ یہ بتائیے کہ ان کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے، عام پکوڑوں جیسا ہی یا مختلف؟
آنکھیں خدا نے دی تھیں ہمیں بھی حسین و مست
کہتے تھے بے پئے ہوئے سب ہم کو مے پرست
ہر جنبش مژہ تھی طلسم کشاد و بست
نظروں میں اپنی ایک تھے سارے بلند و پست
آئینہ دیکھ دیکھ کے مسرور رہتے تھے
بے بادہ نشہ رہتا تھا مخمور رہتے تھے
ہر فاصلہ سمیٹ لیا جائے دام میں
ہر خشک و تر کو لینے لگیں اپنے کام میں
ترتیب کچھ رہے نہ جہاں کے نظام میں
نورِ سحر کو صرف کیا جائے شام میں
قطرہ گرے تو سینکڑوں طوفاں اُبل پڑیں
ذرّہ پھٹے تو لاکھ جہنم نکل پڑیں
برگ و شجر کی نشوونما پر ہو دسترس
رنگِ گل و ثمر ہو بہ اندازہ ہوس
پُھولوں سے آگ نکلے پتھروں سے رس
آلاتِ برق سے ملے سرِ رشتہ نفس
کوئی رہے نہ عقدہ مشکل رُکا ہوا
جب چاہیں جب دھڑکنے لگے دل رُکا ہوا
تیئس سالہ عہدِ رسالت تو دیکھئے
یہ انقلاب اور یہ مدت تو دیکھئے
تبلیغِ دینِ حق کی یہ صورت تو دیکھئے
بدلے ہوئے عرب کی یہ حالت تو دیکھئے
جو باعثِ فساد تھی وہ چیز اٹھ گئی
آقا کی اور غلام کی تمیز اٹھ گئی
ساقی کریم، خادم میخانہ با ادب
ایسی جہاں میں اور کوئی انجمن ہے کب
حسبِ مزاج و حسبِ مدارج پیئنگے سب
جن کو خلوص ہو اُنہیں ملتی ہے بے طلب
گردش میں جام بھی نہیں آتا ہے دوستو
ساقی براہِ راست پلاتا ہے دوستو
شاعر پئے تو شعلہ بیانی کرے سلام
زاہد پئے تو مسئلہ دانی کرے سلام
ذرّہ پئے تو عرشِ مکانی کرے سلام
پی لے اگر ضعیف جوانی کرے سلام
سینے میں ایک موجِ نمو دوڑنے لگے
مُردہ رگوں میں تازہ لہو دوڑنے لگے
ہر ایک کو یہ مئے نہیں ملتی حیات میں
اس مئے کا کوئی مول نہیں کائنات میں
اس مئے سے نور پھیلتا ہے شش جہات میں
تمیز اس سے ہوتی ہےذات و صفات میں
سب کچھ ہے اس کے کیف و اثر کے حدود میں
روشن ہے یہ چراغ غیاب و شہود میں
کیسی صدائے قلقلِ مینا ہے شعلہ ریز
محفل میں اور روشنی ہونے لگی ہے تیز
ہے کس سیاہ قلب کو اس جام سے گُریز
عرفاں نواز، انجمن آراء سرُورخیز
ایک اک بیاضِ دل کا ورق دیکھنے لگے
جس کو ملے وہ چودہ طبق دیکھنے لگے
عقدے تمام حلِّ مسائل میں ڈھل گئے
اوراق جہل علم کی بھٹی میں جل گئے
بل رشتہ حیات میں جو تھے نکل گئے
صدیوں سے جو بدل نہ سکے تھے بدل گئے
تاریخ پیش کر نہیں سکتی مثال میں
جو انقلاب آیا تھا تئیس سال میں
آنکھیں کُھلیں تو رنگ زمانہ ہو آشکار
آنکھیں اُٹھیں تو اٹھنے لگے خود حجابِ یار
آنکھیں کہیں جو قصہ دل، آئے اعتبار
آنکھیں ملیں تو دل کے تعلق ہوں استوار
آنکھیں صلاح کار ہیں جوشِ شباب کی
دو کٹنیاں ہیں یہ دل خانہ خراب کی
کوشش یہ ہے زمیں کے دفینے نکال لیں
ہیں جو چُھپے ہوئے وہ خزینے نکال لیں
محفوظ ہیں ابھی جو نگینے نکال لیں
جو غرق ہو گئے وہ سفینے نکال لیں
محکوم کر لیں قوّتِ موج و حباب کو
رکھیں تصّرفات میں برق و سحاب کو
ضَوریز ہے جو بادہ تو روشن ہر اک سبو
اک چاندنی سی بزم میں پھیلی ہے چار سُو
ہر ایک جام مہر منور سے دوبدو
ہر قطرہ کر رہا ہے ستاروں سے گفتگو
قلب و عقب میں نُور یمین و یسار میں
یا برقِ طور ہے مئے روشن کی دھار میں
روشن ہیں میکدے میں عجب نور کے چراغ
پرتو سے جن کے مہربداماں ہر اک ایاغ
جن کی ضیائے خاص سے روشن ہوئے دماغ
اک اک گل چراغ کھلائے ہزار باغ
اس طرح کیف و نور ہیں باہم ملے ہوئے
ہیں ساغروں میں آج کنول سے کھلے ہوئے