آواز آ رہی ہے کہ اس میکدے میں آ
یہ میکدہ ہے زندگی کامیاب کا
اس میکدے میں جامِ ولا ہے بھرا ہوا
اس کے سبوؤ و ساغر و صہبا ہیں پُر ضیا
تابانی حیات بھی ہے اور سرُور بھی
آنکھیں جھپک رہی ہے یہاں برقِ طور بھی
وا ہو رہا ہے میکدہ راز دوستو
ہے میکشی خاص کا آغاز دوستو
خاموشیاں ہوئی ہیں سخن ساز دوستو
ساغر میں گونجتی ہے اک آواز دوستو
کثرت تو دیکھنا مرے کیفِ قلیل کی
آواز آ رہی ہے پرِ جبریل کی
آنکھیں نہ ہوں تو جلوہ حُسن بتاں فضول
ناز و ادا و عشوہ غلط، شوخیاں فضول
رنگِ نہاں فضول، جمالِ عیاں فضول
آنکھیں نہ پڑھ سکیں تو ہر اک داستاں فضول
آنکھیں ہی زشت و خوب کے پردے اٹھاتی ہیں
آنکھیں ہی بزم دوست کا رستہ بتاتی ہیں
زُلفوں کے بل جبیں کی گرہ ابروؤں مے خم
مژگاں کے تیر، چشم حسیناں کا کیف و کم
عارض کے رنگ چاہ زنخداں لبوں کا نم
جو کچھ ہمیں دکھائیں یہ سب دیکھتے ہیں ہم
نفرت پہ اختیار نہ کچھ دخل میل میں
دل تو فقط کھلونا ہے آنکھوں کے کھیل میں
رہتے ہیں حال سامنے دن اور رات کے
دو پُتلیوں میں رنگ ہیں کُل کائنات کے
آثار قہر کے ہیں کبھی التفات کے
آنکھیں نہیں دریچے ہیں قصرِ حیات کے
جلووں کا سلسلہ بھی ہے تارِ نگاہ سے
دل میں بھی کوئی آئے تو آنکھوں کی راہ سے
وحدت کے درس ان کو ملے، تھے جو بت پرست
آنے لگے وہ ہوش میں جو ہو چکے تھے مست
اک سطح پر سب آئے، زبردست و زیرِ دست
اٹھا تھا سنگ و خشت سے بھی نعرہ الست
ہر ایک کی تلافی مافات ہو گئی
انسانیت کی حد پہ مساوات ہو گئی
پھر سعی ہو رہی ہے کہ یہ آدمی نژاد
رکھے نہ اپنا قدرتِ خالق پہ اعتقاد
زیرِ نگیں ہوں آتش و آب اور خاک و باد
آئے کسی طرح نہ کسی کو خُدا کی یاد
قابو رہے زمیں پہ فلک پر اثر رہے
لیکن حقیقتوں سے ہر اک بے خبر رہے
حروف ھجای فارسی بیست و پنج است:
ا ۔ ء ۔ ب ۔ پ ۔ ت ۔ ج ۔ چ ۔ خ ۔ د ۔ ذ ۔ ر ۔ ز ۔ ژ ۔ س ۔ ش ۔ غ ۔ ف ۔ ک ۔ گ ۔ ل ۔ م ۔ ن ۔ و ۔ ہ ۔ ی
بواسطہ استعمال کلمات بیگانہ ھشت حرف:
ث ۔ ح ۔ ص ۔ ض ۔ ط ۔ ظ ۔ ع ۔ ق نیز در زبان فارسی یافت شود ولی ث و ص را مانند س و ض و ظ را مانند ز و ط را مانند ت و ق را مثل غ تلفظ...
ھمم۔۔درست کہا فاتح بھائی، یہاں چند (وہ اراکین جن کی جانب سے کسی بھی موضوع پر تبصرے محض الل ٹپ کود پڑنے یا ہلکے پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے دلیل اور سند کے ساتھ پڑھنے کو ملتے ہیں) ان کے خیالات و انداز غیر متوقع لگے۔ تاہم بہر حال آزادی اظہار محترم ہے۔
ویسے میں اب تک پسندیدہ کلام کے زمرہ کو خطہ...
آیا پیام رب جہاں اے رسول پڑھ
انسانیت کا درس وفا کے اصول پڑھ
ان کو پڑھا، قواعدِ رد و قبول پڑھ
آئیں گے راہِ حق پہ ظلوم و جہول پڑھ
بعثت کے بعد رنگ ہی عالم کا اور تھا
وہ تھم گیا وہیں پہ جو دنیا کا دور تھا
کچھ حد نہیں ہے اس کرم بے حساب کی
آنکھوں میں وسعتیں ہیں جہانِ خراب کی
کرنے کو سیر ساحل سیل پُرآب کی
دریا کو بھی عطا ہوئیں آنکھیں حباب کی
کلیوں کی صورتیں نظر آئیں دُھلی ہوئی
نرگس کی آنکھ بھی ہے چمن میں کھلی ہوئی
سُنتا ہوں کر رہا ہے زمانہ ترقیاں
انساں بنا رہا ہے ستاروں کی نردباں
نزدیک ہو رہا ہے زمیں سے اب آسماں
لہرا رہا ہے دورِ ترقی کا پھر نشاں
یہ خاک جلوہ گر ہو ستاروں کے روپ میں
انساں لگا ہوا ہے اسی دوڑ دھوپ میں
اک جرعہ دے تو خشک زباں اپنی تر کروں
مل جائیں چند گھونٹ تو عرضِ ہنر کروں
تاریکی خیال میں پیدا سحر کروں
دیکھوں ذرا زمانے کو خود پر نظر کروں
حالانکہ خودنما نہیں خودبیں نہیں ہوں میں
پھر بھی غمِ زمانہ میں خلوت نشیں ہوں میں