نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    پہلے بھی کر چکا ہوں مرقع نگاریاں کیا کیا نہ رنگ لائیں تصور شعاریاں الفاظ سے بنائی تھیں جنت کی کیاریاں تصویر میں دکھائی تھیں پھولوں کی دھاریاں کس نقش میں جمالِ حدوثِ قدم نہ تھا مانی کا موقلم تھا وہ میرا قلم نہ تھا
  2. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    انساں درندگی میں بہائم سے ہولناک حالت تباہ، دامنِ تہذیب چاک چاک حق سے نفور اور معاصی میں انہماک ہر سو قتال و جنگ و جدال اور خون و خاک کوئی کراہتا تھا کوئی مُسکراتا تھا مظلوم رو رہا تھا قوی گنگناتا تھا
  3. سیدہ شگفتہ

    والدین کی مغفرت کے لیے دعا - 5

    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
  4. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  5. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    اب اپنی انگلیوں میں مچلتا نہیں قلم پہلے کی طرح لعل اُگلتا نہیں قلم تھرّا رہے ہیں ہاتھ سنبھلتا نہیں قلم رُکنے لگا خیال تو چلتا نہیں قلم بے کیفیوں کا سامنے اعمال نامہ ہے مجھ کو نہیں سرور تو لغزش میں خامہ ہے
  6. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    اک مستقل خمار کا عالم ہے ساقیا محفل تصورات کی برہم ہے ساقیا لَو شمعِ نور بار کی مدہم ہے ساقیا اب تابِ فکر دل میں بہت کم ہے ساقیا جس دن سے راہِ میکدہ راز رُک گئی وہ شہپرِ خیال کی پرواز رُک گئی
  7. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    ساقی مری بلند خیالی کو کیا ہوا فکرِ رسا و جذبہ عالی کو کیا ہوا میرے سرور و کیف مثالی کو کیا ہوا رنگینیوں کے دورِ جمالی کو کیا ہوا کیف و سرور کا نہیں کوئی نظام بھی تیری نظر کے ساتھ تھا شیشہ بھی جام بھی
  8. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    پھر زندگی ہے موردِ بیداد آج کل اک اک قدم پہ ہے نئی افتاد آج کل بس میں نہیں رہا دلِ ناشاد آج کل کچھ تھک چلا ہے ذہنِ خداداد آج کل محروم بادہ جو ہو وہ بادہ پرست ہوں محسوس ہو رہا ہے زمیں سے بھی پست ہوں
  9. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    ترقی مرثیہ از صبا اکبر آبادی
  10. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    گھر میں خدا کے بُت نظر آتے تھے ہر طرف ایک ایک گھر میں رکھے تھے اصنام صف بہ صف منعم قوی تھے اور ضعیف ہوتے تھے ہدف باہم مخاصمت میں قبائل تھے سر بکف موجود بے حیائی کے انداز سب میں تھے اشعارِ فحش عام زباں زد عرب میں تھے
  11. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    چالیس سال تک وہ تامل وہ غور و فکر دیکھا کہ روز بگڑا ہے دنیا کا رنگ اور انسانیت کی حد سے گرے ہیں بشر کے طور چھایا ہوا ہے جہل و ضلالت کی ایک دور ڈوبے ہوئے ہیں کبر و خودی کے سرور میں انساں خدا کو بھول گئے ہیں غرور میں
  12. سیدہ شگفتہ

    والدین کی مغفرت کے لیے دعا - 5

    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
  13. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  14. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    وہ نور دفعتا بھی نمایاں نہیں ہوا پہنے رہا امانت و حق گوئی کی قبا قندیل صدق سے نظر آتی رہی ضیا اظہار کے لیے ابھی موزوں نہ تھی فضا پہنچی نگاہِ خلق نہ اس کے جمال تک دیکھا کیا زمانے کو چالیس سال تک
  15. سیدہ شگفتہ

    موت کو اتنے قریب سے دیکھنا ایک غیر معمولی اور دلچسپ تجربہ ہے!

    موت کو اتنے قریب سے دیکھنا ایک غیر معمولی اور دلچسپ تجربہ ہے!
  16. سیدہ شگفتہ

    تضاد(محرم کے حوالے سے)

    کس قدر خوبصورتی سے استعارے کا استعمال کیا ہے! ہمیں جب امتحان دینا تھا تب اتنی خوبصورت مثال دسترس میں نہیں تھی تب۔
  17. سیدہ شگفتہ

    آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

    سالہای بے پناہی
  18. سیدہ شگفتہ

    نصف صدی قبل کا دمشق

    خوبصورت
Top