پہلے بھی کر چکا ہوں مرقع نگاریاں
کیا کیا نہ رنگ لائیں تصور شعاریاں
الفاظ سے بنائی تھیں جنت کی کیاریاں
تصویر میں دکھائی تھیں پھولوں کی دھاریاں
کس نقش میں جمالِ حدوثِ قدم نہ تھا
مانی کا موقلم تھا وہ میرا قلم نہ تھا
انساں درندگی میں بہائم سے ہولناک
حالت تباہ، دامنِ تہذیب چاک چاک
حق سے نفور اور معاصی میں انہماک
ہر سو قتال و جنگ و جدال اور خون و خاک
کوئی کراہتا تھا کوئی مُسکراتا تھا
مظلوم رو رہا تھا قوی گنگناتا تھا
اب اپنی انگلیوں میں مچلتا نہیں قلم
پہلے کی طرح لعل اُگلتا نہیں قلم
تھرّا رہے ہیں ہاتھ سنبھلتا نہیں قلم
رُکنے لگا خیال تو چلتا نہیں قلم
بے کیفیوں کا سامنے اعمال نامہ ہے
مجھ کو نہیں سرور تو لغزش میں خامہ ہے
اک مستقل خمار کا عالم ہے ساقیا
محفل تصورات کی برہم ہے ساقیا
لَو شمعِ نور بار کی مدہم ہے ساقیا
اب تابِ فکر دل میں بہت کم ہے ساقیا
جس دن سے راہِ میکدہ راز رُک گئی
وہ شہپرِ خیال کی پرواز رُک گئی
ساقی مری بلند خیالی کو کیا ہوا
فکرِ رسا و جذبہ عالی کو کیا ہوا
میرے سرور و کیف مثالی کو کیا ہوا
رنگینیوں کے دورِ جمالی کو کیا ہوا
کیف و سرور کا نہیں کوئی نظام بھی
تیری نظر کے ساتھ تھا شیشہ بھی جام بھی
پھر زندگی ہے موردِ بیداد آج کل
اک اک قدم پہ ہے نئی افتاد آج کل
بس میں نہیں رہا دلِ ناشاد آج کل
کچھ تھک چلا ہے ذہنِ خداداد آج کل
محروم بادہ جو ہو وہ بادہ پرست ہوں
محسوس ہو رہا ہے زمیں سے بھی پست ہوں
گھر میں خدا کے بُت نظر آتے تھے ہر طرف
ایک ایک گھر میں رکھے تھے اصنام صف بہ صف
منعم قوی تھے اور ضعیف ہوتے تھے ہدف
باہم مخاصمت میں قبائل تھے سر بکف
موجود بے حیائی کے انداز سب میں تھے
اشعارِ فحش عام زباں زد عرب میں تھے
چالیس سال تک وہ تامل وہ غور و فکر
دیکھا کہ روز بگڑا ہے دنیا کا رنگ اور
انسانیت کی حد سے گرے ہیں بشر کے طور
چھایا ہوا ہے جہل و ضلالت کی ایک دور
ڈوبے ہوئے ہیں کبر و خودی کے سرور میں
انساں خدا کو بھول گئے ہیں غرور میں
وہ نور دفعتا بھی نمایاں نہیں ہوا
پہنے رہا امانت و حق گوئی کی قبا
قندیل صدق سے نظر آتی رہی ضیا
اظہار کے لیے ابھی موزوں نہ تھی فضا
پہنچی نگاہِ خلق نہ اس کے جمال تک
دیکھا کیا زمانے کو چالیس سال تک