تھا عرش کا چراغ سرِ فرش جلوہ گر
اہلِ یقیں کو طوروفا آمنہ کا گھر
انوار میں نہا گئے کعبے کے بام و در
وہ روشنی تھی جس پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر
وہ نور تھا کہ خاک کے دل سے ضیا اٹھے
ذرّے ستارے بن گئے اور جگمگا اٹھے
از پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ روایت کردہ اند کہ فرمود: "دانش را دربند کنید۔" پرسیدند: "چگونہ؟" فرمود: "با نوشتن آن"۔
از: چہل حدیث کتاب و کتابت
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "علم کو مقید کر لیں۔" پوچھا: "کیسے؟" آپ
ﷺ نے فرمایا: "اسے لکھ کر"۔
آخر ہوئی دُعائے براہیم مُستجاب
اُبھرا زمینِ مکّہ سے وحدت کا آفتاب
روشن ہوا زمانہ چھٹا ظلم کا سحاب
اٹھنے لگا حیات سے ظلمت کا ہر حجاب
روشن کچھ ایسا رنگِ شب تار ہو گیا
عالم تمام مطلع انوار ہو گیا
آ جائے وہ رسول میرے خاندان میں
نکلے جو کامیاب ہر اک امتحان میں
اترے ترا کلام اسی کی زبان میں
ہو تیری شان جلوہ نما اس کی شان میں
تکمیل دین و نعمت کامل عطا کرے
وہ کشتی حیات کو ساحل عطا کرے
باشد کہ شرح حال این بزرگان، کہ بسیاری شان از روستاھا و از گمنامی، بہ اوج عظمت و آوازہ علمی و پارسایی رسیدند، "رمز پیروزی مردان بزرگ" را بہ نسل معاصر بشناساند و بہ عنوان الگو و اسوہ در زندگی معنویمان از آنان پیروی و در راہ آنھا طی طریق کنیم۔
کتاب: حاج ملا ھادی سبزواری
تالیف: سید حسین قریشی...
آواز آ رہی ہے کہ اے رب کار ساز
اس گھر کو کائنات میں تو رکھیو سرفراز
اس ارض بے گیاہ کو دے نعمت مجاز
رُخ کر کے اس کی سمت زمانہ پڑھے نماز
دینِ حنیفِ حق کی شکایت یہیں سے ہو
ایک آخری رسول کی بعثت یہیں سے ہو
تعمیر میں شریک خلیل و ذبیح پاک
کس درجہ راہ حق میں تھا دونوں کو انہماک
پیغمبروں نے سنگ کا سینہ کیا تھا چاک
اللہ کا مکان بنایا تھا ہو کے خاک
آثار میں ہے حمد خدائے جلیل کی
آواز آ رہی ہے دعائے خلیل کی
کعبہ خلیل رب کی بنا اور خدا کا گھر
قلب زمین، قبلہ عالم بئے بشر
عظمت پناہ، مرکز دیں، قصر معتبر
جاروب کش جہاں رہے روح القدس کے پر
بندوں کا بارگاہِ خدا میں خراج ہے
یعنی سرزمیں پہ بزرگی کا تاج ہے
شکر خُدا قلم کو وہ میداں عطا ہوا
ڈانڈا ہے جس کا باغ جناں سے ملا ہوا
ہے ہر قدم پہ اک گل رحمت کھلا ہوا
جو پہلے نینوا تھا وہ اب کربلا ہوا
جو ذرہ اس زمین کا ہے حق پناہ ہے
عظمت کی اس کے عظمت کعبہ گواہ ہے
یہ سن کے جب چلا تو چلا صورت شمیم
اک جادہ جدید بنی منزل قدیم
کچھ فاصلے کا خوف نہ کچھ راستے کا بیم
یہ کارنامہ اس نے دکھایا بڑا عظیم
مکّے گیا مدینے گیا کربلا گیا
راہ نجف سے منزل مقصد پہ آ گیا