نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے (منور رانا)
  2. کاشفی

    جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں - ملِک زادہ جاوید

    شکریہ بھائی۔۔خوش و خرم رہیئے ہمیشہ۔
  3. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    وہ ہر جملہ ادھورا بولتا ہے پھر اُس کے بعد چہرہ بولتا ہے وہ تحت الفظ ہو یا ہو ترنّم غزل کس کی ہے لہجہ بولتا ہے جہنم نام لکھوا لے گا اپنے بزرگوں سے جو اونچا بولتا ہے (ملِک زادہ جاوید)
  4. کاشفی

    جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں - ملِک زادہ جاوید

    غزل (ملِک زادہ جاوید) جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں ذرا سے نام اور تشہیر پاکر ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں سنبھل کر گفتگو کرنا بزرگو! کہ اب بچے پلٹ کر بولتے ہیں کچھ اپنی زندگی میں مر چکے ہیں کچھ ایسے ہیں...
  5. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں ذرا سے نام اور تشہیر پاکر ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں سنبھل کر گفتگو کرنا بزرگو! کہ اب بچے پلٹ کر بولتے ہیں کچھ اپنی زندگی میں مر چکے ہیں کچھ ایسے ہیں جو مر کر بولتے ہیں جو...
  6. کاشفی

    آج کی تصویر - 2

    Something that makes me feel proud - بشکریہ ایم کیو ایم ٹیلی وژن
  7. کاشفی

    پاکستان کے بارے اچھی خبریں

    Something that makes me feel proud - بشکریہ ایم کیو ایم ٹیلی وژن
  8. کاشفی

    مبارکباد اردو محفل تو سدا آباد رہے ۔آمین

    مبروک! خوش و خرم رہیئے ہمیشہ۔۔
  9. کاشفی

    ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے اپنے جینے کا انداز نرالا ہے آہٹ سی محسوس ہوئی ہے آنکھوں کو شاید کوئی آنسو آنے والا ہے چاند کو جب سے الجھایا ہے شاخوں نے پیڑ کے نیچے بےترتیب اُجالا ہے خوشبو نے دستک دی تو احساس ہوا گھر کے در و دیوار پر کتنا جالا ہے
  10. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے اپنے جینے کا انداز نرالا ہے آہٹ سی محسوس ہوئی ہے آنکھوں کو شاید کوئی آنسو آنے والا ہے چاند کو جب سے الجھایا ہے شاخوں نے پیڑ کے نیچے بےترتیب اُجالا ہے خوشبو نے دستک دی تو احساس ہوا گھر کے در و دیوار پر کتنا جالا ہے (طاہر فراز)
  11. کاشفی

    گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال افسوس یہ ہے اُس نے میری بات کاٹ دی حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدّتوں کے بعد اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی جب بھی ہمیں چراغ میسّر نہ آسکا سورج کے ذکر سے شبِ ظلمات کاٹ دی دل...
  12. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال افسوس یہ ہے اُس نے میری بات کاٹ دی حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدّتوں کے بعد اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی جب بھی ہمیں چراغ میسّر نہ آسکا سورج کے ذکر سے شبِ ظلمات کاٹ دی دل بھی لہو لہان...
  13. کاشفی

    جب کبھی بولنا، وقت پر بولنا - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) جب کبھی بولنا، وقت پر بولنا مدّتوں سوچنا، مختصر بولنا ڈال دے گا ہلاکت میں اک دن تجھے اے پرندے تیرا شاخ پر بولنا پہلے کچھ دور تک ساتھ چل کے پرکھ پھر مجھے ہم سفر، ہمسفر بولنا عمر بھر کو مجھے بے صدا کر گیا تیرا اک بار منہ پھیر کر بولنا میری خانہ بدوشی سے پوچھے کوئی کتنا مشکل ہے...
  14. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    اپنی آنکھوں میں وہ برق و شرر رکھتے ہیں ہم بھی سورج کو بجھانے کا ہُنر رکھتے ہیں حادثے کیا ہوئے رستے میں مجھے یاد نہیں آبلے پاؤں کے تفصیلِ سفر رکھتے ہیں (طاہر فراز)
  15. کاشفی

    غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز - رامپوری) غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا غم یہ ہے قاتلوں میں تیرا نام آگیا جگنو جلے بجھے میری پلکوں پہ صبح تک جب بھی تیرا خیال سرِ شام آگیا محسوس کر رہا ہوں میں خوشبو کی بازگشت شاید تیرے لبوں پہ میرا نام آگیا کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا بےساختہ لبوں پہ تیرا نام...
  16. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا غم یہ ہے قاتلوں میں تیرا نام آگیا جگنو جلے بجھے میری پلکوں پہ صبح تک جب بھی تیرا خیال سرِ شام آگیا محسوس کر رہا ہوں میں خوشبو کی بازگشت شاید تیرے لبوں پہ میرا نام آگیا کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا بےساختہ لبوں پہ تیرا نام آگیا میں نے تو ایک لاش کی...
  17. کاشفی

    میرے احساس کو شدّت نہ ملے - طاہر فراز

    غزل (طاہر فراز) میرے احساس کو شدّت نہ ملے یا مجھے حکمِ قناعت نہ ملے جس کے ملنے سے خُدا بن جاؤں اے خُدا مجھ کو وہ دولت نہ ملے میں تیرا شُکر ادا کرتا رہوں اور مجھے حسبِ ضرورت نہ ملے اتنا مصروف نہ کر تو کہ مجھے تجھ سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملے اُن ہی شاخوں پہ اُگاتا ہے مجھے میری جن شاخوں سے فطرت...
  18. کاشفی

    جس کے ملنے سے خُدا بن جاؤں۔۔۔۔ اے خُدا مجھ کو وہ دولت نہ ملے

    جس کے ملنے سے خُدا بن جاؤں۔۔۔۔ اے خُدا مجھ کو وہ دولت نہ ملے
  19. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    نئی ہواؤں کی صحبت بگاڑ دیتی ہے کبوتروں کو کھلی چھت بگاڑ دیتی ہے جو جرم کرتے ہیں، اتنے برے نہیں ہوتے سزا نہ دے کے عدالت بگاڑ دیتی ہے (راحت اندوری)
  20. کاشفی

    آپ کے پسندیدہ اشعار!

    اب کہ جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پر ہوگا ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی (راحت اندوری)
Top