بدگمانی کا وہ ذہنوں پہ اثر لگتا ہے
پیار کی بات بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
تم تو رہتے ہو خیالوں میں، تمہیں کیا معلوم
در و دیوار ہوں جس میں وہی گھر لگتا ہے
(وسیم بریلوی)
غزل
(وسیم بریلوی)
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اُس کے گھر نہیں جاتا
مگر احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا
برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں
کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا
گھروں کی تربیت کیا آگئی ٹی وی کے ہاتھوں میں
کوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا
کھلے تھے شہر میں سو دَر...
چک چک باران بهار شیرین است ، در یاد دارم تو را
شد بیدار در دل، غم دیرینم ، از ناز لاله زار
چک چک باران بهار شیرین است ، در یاد دارم تو را
شد بیدار در دل، غم دیرینم ، از ناز لاله زار
بیدلم ، بیدلم، خنجر زدند بر سینه ام ، جدا کردند ما ر ا
میهنم، میهنم ، تقدیرم آه همین است ، چرا، چرا، آی چرا؟...
غزل
(وسیم بریلوی)
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا
لیکن میری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا
سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہ
لیکن تیرے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا
جاتی ہے چلی جائے یہ میخانے کی رونق
کم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو ساغر نہ ملے گا
میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا
لیکن میری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا
سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہ
لیکن تیرے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا
جاتی ہے چلی جائے یہ میخانے کی رونق
کم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو ساغر نہ ملے گا
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اُس کے گھر نہیں جاتا
مگر احتیاطوں سے تعلق مر...
بہت خوبصورت ہو تم
(طاہر فراز)
بہت خوبصورت ہو تم
کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خُدارا غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم
ہے پھولوں کی ڈالی یہ باہیں تمہاری
ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری
جو کانٹیں ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں
سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری
نظر سے زمانے کی خود کو بچانا...